اجمیر میں مذہبی مقامات پر لائوڈ اسپیکر کا استعمال نہیں ہوگا، انتظامیہ کی پابندی
جے پور: کرولی میں بگڑتی ہوئی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور کئی اضلاع میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے درمیان اب راجستھان کی اشوک گہلوت حکومت نے ریاست بھر میں رامائن اور سندرکانڈ کا پاٹھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت 10 اپریل کو رام نومی پر رامائن کا پاٹھ کرے گی اور ہنومان جینتی پر سندرکانڈ کا پاٹھ کرے گی۔ اس کے لیے راجستھان حکومت نے ان تمام اضلاع کے دیوستھان محکمہ سے دو دو مندروں کی فہرست مانگی ہے جہاں یہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ یہ تقریبات ریاستی حکومت کے دیواستھان محکمہ کے براہ راست چارج میں مندروں میں منعقد کی جائیں گی۔اس کے لیے دیواستھان محکمہ سے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
اجمیر: اجمیر میں ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے لائوڈ اسپیکر پر پابندی لگا دی ہے۔ انتظامیہ کا یہ فیصلہ 7 اپریل سے نافذ ہوگیا۔ انتظامیہ نے صوتی آلودگی کو روکنے کے لیے تمام عوامی اور مذہبی مقامات پر لائوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ واضح رہے کہ طویل عرصے سے لائوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ عدالتوں نے متعدد مواقع پر حکام کو مذہبی مقامات سے لائوڈا سپیکر ہٹانے کی ہدایت کی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ مشہورر گلوکارہ انورادھا پوڈوال نے اذان کیلئے لائوڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ ہزاروں مقبول گانوں کو اپنی آواز دینے والی گلوکارہ نے کہا کہ ہندوستان میں اس طرح کی مشق کی ضرورت نہیں ہے۔
انورادھا نے کہا کہ میں نے دنیا کے کئی مقامات کا دورہ کیا ہے۔میں نے ہندوستان کے علاوہ کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ میں کسی مذہب کے خلاف نہیں ہوں لیکن یہاں زبردستی اس کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ وہ مسجد سے لائوڈا سپیکر پر اذان دیتے ہیں۔ دوسری کمیونٹیز سوال کرتی ہیں کہ اگر دوسرے لوگ لائوڈ اسپیکر استعمال کر سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں کر سکتے۔ٹھیک ہے، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی مشہور شخصیت نے لائوڈ اسپیکر پر پابندی کی بات کی ہو۔ 2017 میں مقبول گلوکار سونو نگم، جنھیں حال ہی میں پدم شری ایوارڈ ملا تھا، نے لائوڈ اسپیکر پر اذان کے خلاف آواز بلند کی۔