گیان واپی معاملہ۔ مسجد کمیٹی نے سروے رپورٹ کو عوام میں گشت کرنے سے روکنے کی مانگ کی۔

,

   

واراناسی۔ واراناسی کی ضلع عدالت کو انجمن انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے مانگ کی گئی ہے کہ گیان واپی مسجد سروے کے معاملے میں کمیشن کی رپورٹ کو برسرعام نہیں لایاجائے۔

کمیشن کے احکامات کی مستند کاپی کے لئے عدالت میں درخواستوں کا بھی حوالہ دیاگیاہے۔ کمیٹی کے وکیل معراج الدین صدیقی نے اے این ائی کو بتایاکہ انہوں نے گوہار لگائی ہے کہ کمیشن کی رپورٹ‘ تصویریں‘ اور ویڈیوز صرف متعلقہ فریقین کو ہی شیئر کریں ”او راس رپورٹ کو عوام میں نہیں لائیں“۔

انہو ں نے کہاکہ ”یہ ہمیں 30مئی کے روز ملے گی“۔اس سے قبل جمعہ کے روز مذکورہ ضلع عدالت نے پانچ ہندو عورتوں کی جابن سے گیان واپی مسجد‘ کاشی وشواناتھ مندر کی عمارت میں شرینگار گوری کی ہر روز پوجا کے لئے دائر ایک درخواست کی برقراری پر بحث کی سنوائی کی اور اگلی سنوائی کے لئے پیر کے دن کا مقرر کیاہے۔

مسلم فریق کی بحث تھی کہ یہ درخواست عبادت کے مقامات ایکٹ1991کے تحت برقرار کے اہل نہیں ہے جس میں کسی بھی عبادت کے مقام کو تبدیل کرنے پر روک لگائی گئی ہے اور کسی بھی عبادت کے مقام جو15اگست1947سے موجود ہے اس کے مذہبی کردار کو برقرار رکھنے کو لازمی قراردیاتھا۔

اس درخواست کے دائر ہونے کے بعد نچلی عدالت نے گیان واپی مسجد عمارت کے ویڈیو گرافی سروے کے احکامات دئے تھے اور ہندو فریق کا دعوی تھا کہ اس عمل کے دوران ’شیولنگ‘ برآمد ہوا ہے۔

مئی 20کے روز سپریم کورٹ کے اس معاملے کو ایک ضلع جج سے ایک سیول جج(سینئر ڈویثرن) کو منتقل کیااو رکہاتھا کہ اس معاملے کی’پیچیدگیوں‘’اور ”حساسیت“ کو دیکھتے ہوئے اس کیس کو ایک سینئر قانونی افسر کا دیکھنا بہتر ہوگا۔