ہائیکورٹ کا اندرون ایک ہفتہ شمبھو،کھنوری سرحدیں کھولنے کا حکم

   

چنڈی گڑھ: پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے بدھ کو حکم دیا کہ پنجاب اور ہریانہ کی شمبھو اور کھنوری سرحدوں کو ایک ہفتے کے اندر کھول دیا جائے ۔پنجاب کے کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے کم از کم امدادی قیمت اور دیگر مطالبات کی ضمانت دینے والے قانون کا مطالبہ کرنے والے ‘دہلی کوچ’ ایجی ٹیشن کی وجہ سے 10 فروری سے دونوں سرحدیں بند ہیں۔عدالت نے مختلف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے ہریانہ حکومت کو سرحدوں پر قومی شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایت دی۔ پنجاب حکومت سے کہا کہ وہ شمبھو بارڈر پر احتجاج کو اپنی حدود میں ہینڈل کرے اور کسان تنظیموں سے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے کہا۔عدالت نے کہا کہ حالات پرسکون ہیں اور چونکہ کسانوں کے مطالبات مرکزی حکومت سے ہیں اس لیے انہیں دہلی جانے کی اجازت دی جانی چاہیے ۔خیال رہے کہ کسان تنظیموں کے دہلی کوچ کی کال کے بعد ہریانہ حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کرکے اور سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کرکے سرحدوں کو سیل کردیا تھا۔ تحریک کے ابتدائی دنوں میں ہریانہ سیکورٹی فورسز نے بھی طاقت کا استعمال کیا اور ڈرون سے ربڑ کی گولیاں چلائیں جس میں کئی کسان زخمی ہوئے ۔ دوسری جانب ہریانہ حکومت نے الزام لگایا کہ مظاہرین کے پتھراؤ میں اس کے کئی سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ایک نوجوان کسان شبھ کرن سنگھ کی بھی موت ہوگئی۔ اس عرصے کے دوران کسان رہنماؤں نے اس وقت کے تین مرکزی وزیروں کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کی لیکن بات چیت ناکام رہی۔