خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے ضلع ایس پی سے جمعیۃ العلماء کے ذمہ داروں کا مطالبہ
مٹ پلی ۔ 3 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ابراہیم پٹنم منڈل کے موضع ورشہ کونڈا میں ہجومی تشدد سے مورتاڑ کے متوطن 2 افراد محمد اقبال قریشی (60) اوران کے فرزند محمد انس قریشی (22) کو شدید زدوکوب کیا گیا تھا۔ ان کو علاج و معالجہ کے لئے مٹ پلی کے خانگی ہاسپٹل اشوک ریڈی میں شریک کیا گیا۔ ریاستی جمعیۃ العلماء کی ہدایت پر ضلعی ذمہ داران جمعیۃ العلماء و مقامی ذمہ داران بشمول قاری محمود الحسن قاسمی، مفتی عبدالمجیب (کورٹلہ) مولانا عبداللہ (کورٹلہ)، حافظ مبشر خان (کورٹلہ)، حافظ عبدالعزیز، حافظ محمد عثمان فصیح الدین، مفتی اسلم اللہ بیگ، محمد یسین (ابراہیم پٹنم)، محمد ناصر (ورشہ کونڈا)، احمد خان سونو، محمد اعجاز پاشاہ اور دیگر نے ہاسپٹل پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے تفصیلات سے واقفیت حاصل کی۔ ان متاثرہ افراد کی جمعیۃ العلماء مٹ پلی و ضلعی ذمہ داران کی جانب سے صحت کی مزید جانچ کے لئے اسکاٹننگ کروائی گئی۔ مولانا لئیق احمد (نظام آباد) اور ضلع جگتیال کے ذمہ داران جمعیۃ علماء نے ایس پی اشوک کمار سے ربط پیدا کرتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس علاقہ کا پہلا نوعیت کے واقعہ سے علاقہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے حالانکہ اس علاقہ میں ہندو مسلم گنگا جمنی تہذیب کا ماحول ہے۔ اس ماحول کو بگاڑنے کی سازش کی جارہی ہے۔ متاثرین کو زدوکوب کرنے کے دوران محمد انس قریشی کو کھمبے سے باندھ کر شرپسند نوجوانوں کی جانب سے جئے شری رام کا نعرہ لگاکر ہمارا ایم پی اروند ہے کسی سے کچھ نہیں ہوتا کہنے کی اطلاع پائی جاتی ہے۔ مقامی نوجوانوں کو ڈی ایس پی کی ہدایت پر قابو کرنے کے لئے قائدین ملت محمد یسین، محمد عقیل (ٹاؤن صدر ایم آئی ایم) محمد رضی الدین اختر جانی (صدر ملت اسلامیہ مرکزی کمیٹی) اور دیگر نے اپنا تعاون پیش کیا۔