میوت: ہریانہ کے میوات ضلع کے حسین پور گاؤں سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ وارث نامی نوجوان کی مشتبہ موت کا معاملہ اب زور پکڑ رہا ہے۔ لواحقین نے دعویٰ کیا کہ ہندوتوا گروپ بجرنگ دل گاؤ رکھشا دل کے کارکنوں نے وارث کا قتل کیاہے اورپولیس اس معاملے کو چھپانے کیلئے حادثے کا بہانا بناررہی ہے۔ وارث کی موت سے قبل ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔جس میں ایک شخص وارث اور اس کے دو ساتھیوں کا نام اور پتہ پوچھتا نظر آتا ہے۔ تینوں نوجوان بہت پریشان ہیں۔ اُن کے چہرے پر زخموں کے نشانات بھی نمایاں ہیں اور ویڈیو میں مار پیٹنے کی آوازیں بھی آرہی ہیں۔وارث کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر بھی انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا جس میں نوجوان کی علاج کے دوران موت ہوگئی۔درحقیقت نوح پولیس کے مطابق کھوری کلاں چوکی کے نیچے اتیت کا موڈ کے قریب ٹاٹا ایس ٹیمپو اور سنٹرو کار میں تصادم ہوا۔ سڑک حادثے میں تینوں زخمی ہوگئے۔ جن میں سے وارث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے میڈیکل کالج نلہار میں دوران علاج چل بسا۔
تینوں مویشی لا رہے تھے۔ پولیس کی اس تھیوری سے متوفی کے لواحقین مطمئن نہیں ہیں۔اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ گاؤ رکھشا دل کے ارکان نے تینوں کو مارا پیٹا اور اسی مار پیٹ کی وجہ سے وارث کی موت ہوگئی۔ بعد میں اسے حادثہ دکھانے کی کوشش کی گئی۔نوح کے میڈیکل کالج میں جمع ہونے والے لواحقین اور دیہاتیوں نے بتایا کہ اس پورے واقعے کی دو عینی شاہدین اور ایک ویڈیو موجود ہے،جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ورثا کسی حادثے میں نہیں مارا گیا، بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے۔ تاہم نوح پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ یہ یہاں کے ماحول اور امن کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔ویڈیو بھی منظر عام پر آیا.واضح رہیکہ وارث کی موت بھیواڑی۔تاواڈو روڈ پر ہفتہ کی صبح ہوئی تھی۔ ان کی موت کے بعد ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وارث اور اس کے دو دوست گاڑی میں بیٹھے ہیں۔ ویڈیو بنانے والا شخص ان تینوں سے دھمکی آمیز لہجے میں ان کے گاؤں کا نام اور پتہ پوچھ رہا ہے۔رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ویڈیو بنانے والا کوئی اور نہیں بلکہ گاؤ رکھشا دل کا رکن ہے۔ وارث اس کی پٹائی کی وجہ سے دم توڑ گیا۔ کچھ لوگوں نے اس ویڈیو کو ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹیگ کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔صدر اسٹیشن کے انچارج ایس ایچ او توڈو اروند کمار نے بتایا کہ یہ معاملہ حادثہ کا ہے۔ سانٹرو گاڑی سے ٹکرانے والے ٹیمپو کے ڈرائیور کا بیان بھی لیا گیا۔ اس نے بتایا کہ گاڑی نے اس کے ٹیمپو کو ٹکر ماری۔وارث گاڑی چلا رہا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے سینے پر شدید چوٹ آئی اور وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔