ہماری صلاحیتوں کو چند میزائلوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا : ایران

   

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنا پیغام کئی بار دہرا چکا ہے اور دوسرے فریق سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ ایران کے ارادے کو نہ آزمائے اور اس کی صلاحیتوں کو کم تر نہ سمجھے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق عراقچی نے یہ بات پاکستانی دار الحکومت اسلام آباد پہنچنے کے بعد ایک بیان میں کہی۔ عراقچی کے مطابق ایران ماضی میں امتحانوں میں کامیاب رہا ہے اور اگر کسی نے اس کو آزمایا تو وہ نتائج بھگت لے گا۔انھوں نے واضح کیا کہ ایران کی صلاحتیں درآمد شدہ نہیں ہیں اور ان کو چند میزائلوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔عباس عراقچی آج منگل کے روز پاکستانی ہم منصب محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کریں گے۔ اسی طرح ان دونوں شخصیات کی قیادت میں ایران اور پاکستان کے وفدوں کا اجلاس منعقد ہو گا۔واضح رہے کہ اسرائیل نے گذشتہ ماہ 26 اکتوبر کو ایران کے 3 صوبوں میں فضائی حملہ کیا تھا۔ اس دوران میزائلوں کی تیاری اور داغے جانے کے مقامات کے علاوہ فضائی دفاعی نظام (S-300)کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کے روز باور کرا چکے ہیں کہ ان کا ملک اسرائیلی حملے کو بنا جواب دیے نہیں چھوڑ سکتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران ابھی تک جوابی کارروائی کے طریقہ کار غور کر رہا ہے۔ پزشکیان کے مطابق “غزہ اور لبنان میں فائر بندی کی صورت میں ہمارے جواب کی نوعیت اور شدت تبدیل ہو سکتی ہے۔
انتہا پسند قوتوں کو کینیڈا میں سیاسی جگہ مل رہی ہے
کینبرا: ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کے روز برامپٹن، کینیڈا میں ہندو مندر پر حملے کے واقعے پر سخت اعتراض کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح انتہاء پسند قوتوں کو وہاں سیاسی پناہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو کینیڈا میں پیش آنے والے واقعہ اور ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان جاری سفارتی تنازعہ سے متعلق سوالات کے جواب میں اپنے آسٹریلوی ہم منصب پینی وونگ کے ساتھ یہاں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
برامپٹن، کینیڈا میں مظاہرین، خالصتانی پرچم اٹھائے ہوئے اتوار کو ہندو سبھا مندر میں لوگوں کے ساتھ جھڑپیں اور مندر کے عہدیداروں اور ہندوستانی قونصل خانے کے زیر اہتمام ایک تقریب میں خلل ڈالا۔ جے شنکر نے کینبرا میں صحافیوں کو بتایاکہ انہوں نے پہلے بھی ہمارے سرکاری ترجمان کا بیان دیکھا ہوگا اور ہمارے وزیر اعظم کی تشویش کا اظہار بھی کیا ہوگا۔ وزیر خارجہ 3 سے 7 نومبر تک آسٹریلیا کے سرکاری دورہ پر ہیں۔ جے شنکر نے کہا کہ مجھے تین باتیں کہنے دو۔ ایک، کینیڈا نے تفصیلات فراہم کیے بغیر الزام کا ایک نمونہ بنایا ہے۔ دوسرا، جب ہم کینیڈا کو دیکھتے ہیں، ہمارے لیے، حقیقت یہ ہے کہہمارے سفارت کار نگرانی میں ہیں، ایسی چیز جو ناقابل قبول ہے۔