اقوام متحدہ: اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنے کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کرنے کے بعد انروا نے خبردار کیا ہے کہ یہ پابندی جنگ زدہ غزہ میں انسانی ہمدردی کے کاموں کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان جوناتھن فولر نے کہا ہے کہ اگر اس قانون پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ ممکنہ طور پر غزہ میں بین الاقوامی انسانی آپریشن کے خاتمے کا سبب بنے گا جس میں انروا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔خطے میں انروا کے ترجمان عدنان ابو حسنہ نے وضاحت کی کہ اسرائیل کے ساتھ 1967 میں طے پانے والے معاہدے نے ایجنسی کو مشرقی القدس، مغربی کنارے اور غزہ میں کام کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس معاہدے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ بہت خطرناک ہے۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ایجنسی کو ابھی تک اسرائیلی پیغام موصول نہیں ہوا ہے۔انہوں نے العربیہ کو بیانات میں مزید کہا کہ اگر اس فیصلے کو اس کے عملی اقدامات (بینکنگ لین دین کو روکنا، اس کے کارکنوں کے لیے ویزا روکنا ) کے ساتھ نافذ کیا گیا تو اس کے زمینی طور پر تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انروا غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے لیے لائف لائن ہے۔