حیدرآباد۔26۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلمانوں کی ہمدرد حکومت اور طاقتور مسلم قیادت کے باوجود تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ میں برسرکار 36 ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی فائل کو چیف منسٹر کے سی آر نے واپس کردیا ہے! اسمبلی انتخابات کیلئے اعلامیہ کی اجرائی سے ایک ہفتہ قبل محکمہ اقلیتی بہبود اور محکمہ فینانس کی جانب سے مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی فائل تیار کرکے حکومت کو پیش کی گئی تھی لیکن چیف منسٹر نے فائل پر دستخط کرنے سے انکار کرکے کہا کہ انتخابات کے بعد انہیں یہ فائل پیش کی جائے۔ ان مسلم ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے گذشتہ 10 برسوں میںکئی مرتبہ حکومت سے نمائندگی کی گئی جبکہ خود چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی میں مکہ مسجد اور شاہی مسجد آئمہ و مؤذنین و دیگر عملہ کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا تیقن دیا تھا اور 2018 انتخابات سے قبل اسمبلی سیشن میں بھی چیف منسٹر نے کہا تھا کہ اندرون دو ماہ ان مساجد کے عملہ کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اسمبلی انتخابات کے اعلامیہ کی اجرائی سے دو ہفتہ قبل فائل کو چیف منسٹر کی دستخط کیلئے روانہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ فائل کمشنریٹ محکمہ اقلیتی بہبود کو واپس کردی ۔ ان ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے چیف منسٹر کی جانب سے یہ فائل تیسری مرتبہ واپس کردی گئی ہے ۔ گذشتہ 5برسوں میں چندر شیکھر راؤ اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے 3 مرتبہ فائل واپس محکمہ اقلیتی بہبود کو روانہ کردی گئی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع کے مطابق اب دوبارہ فائل کی تیاری اور محکمہ فینانس سے منظوری کے بعد چیف منسٹر تک فائل کو پہنچانے کیلئے کم از کم 4ماہ انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ اسمبلی انتخابات کا عمل ختم ہونے کے چند ہفتوں کے بعد ہی ملک بھر میں عام انتخابات کیلئے اعلامیہ کی اجرائی کے امکانات ہیں اسی لئے دوبارہ فائل کی تیاری میں ہی کافی وقت لگ جائے گا۔