ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار

   

جسٹس مارکنڈے کٹجو
ہندوستان میں آج 200 ملین مسلمان آباد ہیں جبکہ ہمارے ملک کی جملہ آبادی 1400 ملین سے زائد ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ ہندوستان کی 140 کروڑ آبادی میں مسلمانوں کی آبادی زائد از 20 کروڑ ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مسلم آبادی 235 ملین نفوس پر مشتمل ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی بہ نسبت ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کم ہے ۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 150ملین ہے ۔ باالفاظ دیگر بنگلہ دیش کی بہ نسبت ہندوستانی مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ جس طرح کا بدترین سلوک روا رکھا گیا ہے وہ سب پر عیاں ہے ۔ خاص طورپر ہندوستان کی سیاسی زندگی میں مسلمانوں کو پوری طرح حاشیہ پر لا دیا گیا ہے۔ اکثر اُنھیں جھوٹ و دروغ گوئی کا سہارا لیکر ہمیشہ بدنام کیا گیا ۔ اُن کے تعلق سے غلط فہمی پھیلائی گئی ، اُنھیں ہمیشہ ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا اور مسلمانوں کو تعصب و جانبداری امتیازی سلوک کا نشانہ بناکر ذلیل و رسواء کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ حد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی خاطر اُنھیں دہشت گرد قرار دیا گیا ۔ متعصب ، ملک دشمن ہونے کا مسلمانوں پر لیبل چسپاں کیا گیا ویسے بھی جب سے ملک میں بی جے پی اقتدار میں آئی اس کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔
تمام ہندوستانی یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) آر ایس ایس کی سیاسی ونگ ہے ۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا بی جے پی حکومت میں مسلمانوں پر ظلم و جبر نہیں کیا گیا ، اُنھیں ہر سطح پر نہیں دبایا گیا ؟ اُنھیں اُن کے دستوری و جمہوری حقوق سے محروم نہیں کیا گیا ؟ کیا مسلمانوں میں سے درجنوں مسلمانوں کو نام نہاد و خودساختہ گاؤ رکھشکوں نے ہجومی تشدد کا نشانہ بناکر اُنھیں موت کی نیند نہیں سلایا ، اُنھیں شدید زخمی نہیں کیا؟ کیا بے شمار مسلمانوں کو صرف اس لئے شدید زدوکوب نہیں کیا گیا کہ انھوں نے زبردستی جئے شری رام کا نعرہ لگانے سے انکار کردیا؟ کیا مسلمانوں کے مکانات پر بلڈوز نہیںچلائے گئے؟ اُنھیں زمین کے برابر نہیں کیا گیا ؟ کیا مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد کو جھوٹے اور فرضی مقدمات میں پھنساکر گرفتار کرکے برسوں سے جیلوں میں بند نہیں رکھا گیا اور وہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ( اس ضمن میںعمر خالد کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جو بغاوت جیسے سنگین الزامات کے تحت 6 سال سے زائد عرصہ سے جیل میں بند ہیں ) ۔
کیا مسلمانوں کے خلاف مسلسل امتیاز نہیں برتا گیا ؟ کیا اُن کے خلاف اکثر و بیشتر اشتعال انگیز تقاریر نہیں کی گئیں اور اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والوں کو روکا گیا اور نہ ہی اُن کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی گئی ۔ تاہم 2014 ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے پہلے کانگریس پارٹی کی حکمرانی کے دوران بھی مسلمانوں کو کئی ایک پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ، وہ کافی متاثر رہے ۔
مسلمانوں کی زبوں حالی ، اُن کی معاشی و مالی پسماندگی کا اندازہ سچر کمیٹی رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے ۔ دہلی ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر کی زیرقیادت ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے مسلمانوں کی پسماندگی کا بغور جائزہ لینے کے بعد رپورٹ پیش کی جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ مسلمان تعلیم ، روزگار و ملازمتوں اور اقتصادی شعبوں غرض زندگی کے ہر شعبہ میں دیگر سماجی و مذہبی برادریوں سے بہت پیچھے ہیں ۔ آمدنی کے معاملہ میں بھی وہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے بہت زیادہ پسماندہ ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اوسط سماجی و اقتصادی موقف یا مقام ایس سی ۔ ایس ٹی سے بھی بدتر ہے ۔ یعنی سماجی و معاشی لحاظ سے ہندوستانی مسلمانوں کی بہ نسبت درج فہرست طبقات و قبائل کا موقف بہت اچھا ہے ۔
راقم الحروف نے ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف برپا کئے جانے والے ظلم و جبر کی ہمیشہ مذمت کی ہے اور میں عظیم مغل بادشاہ اکبر دی گریٹ ( اکبر اعظم ) کا ایک عاجز معتقد ہوں جس نے ہمیشہ صلح کل کی پالیسی کی تشہیر و تبلیغ کی یا تمام مذاہب اور برادریوں کا مساویانہ احترام کیا لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد حصہ ہونے والی ایک برادری کے ساتھ یہ حاشیہ بندی اور محرومی کیسے ہوئی؟ اگر دیکھا جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ 1947 ء میں ہندوستان کی تقسیم کا براہ راست نتیجہ تھا جسے میں ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ مظلوم تاریخ کا سب سے بڑا المیہ سب سے بڑا حادثہ سمجھتا ہوں ۔ یہ تقسیم نام نہاد دو قومی نظریئے کی بنیاد پر کی گئی جس کے مطابق ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں اور ایک ساتھ ملکر پرامن نہیں رہ سکتے ۔
میرے خیال میں ملک کی تقسیم دراصل انگریزوں کی ایک چال تھی تاکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑتے رہنے پر مجبور کیا جائے ، وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف دست گریباں رہے ساتھ ہی متحدہ ہندوستان کو ایک طاقتور صنعتی ملک باالفاظ دیگر ایک اور چین بننے سے روکا جائے حالانکہ ہندوستان میں اس کی مکمل صلاحت موجود تھی اور یوں وہ مغربی صنعت کے لئے ایک بڑا حریف بن سکتا تھا۔
اپنے کئی ایک مضامین میں جن کے لنکس بھی اکثر دیتا رہتا ہوں ، میں نے وضاحت کی ہے کہ 1857 ء کی بغاوت سے پہلے ہندوستان میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ مسئلہ موجود نہیں تھا۔ 1857 ء کے غدر میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے متحد ہوکر انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی ، اس بغاوت کو انگریزوں نے کچل دیا اور اس کے ساتھ ہی فیصلہ کیا کہ ہندوستان جیسے عظیم اور وسیع و عریض ملک پر حکومت کرنے کا واحد طریقہ ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو ‘‘ کی پالیسی ہے چنانچہ انگریزوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالکر حکومت کرنے کی خاطر اپنے کارندوں کو اس کام پر لگادیا اور اُن کے ذریعہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کی ۔ دوسری طرف جب ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی اور پاکستان کو ایک اسلامی ملک قرار دیا گیا تو منطقی طورپر اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ہندوستان ایک ہندو ریاست ہوگی جہاں غیرہندو بھی عملاً دوسرے درجہ کے شہری ہوں گے ۔ بالکل اسی طرح جیسے پاکستان میں غیرمسلم عملاً دوسرے درجہ کے شہری ہیں لیکن سب سے اچھی بات یہ رہی کہ آزادی کے بعد ایک طویل عرصہ تک برسراقتدار رہی کانگریس پارٹی نے ہندوستان کو ایک سیکولر ریاست کے طورپر پیش کیا لیکن یہ حقیت میں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی صرف ایک چال تھی ، ایک پردہ تھا ۔
یہ حقیقت سال 2014 ء میں اس وقت کھل کر سامنے آگئی جب خود کو ہندوؤں کی حامی قرار دینے یا ہندوؤں کی حامی ہونے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی اقتدار میں آئی ۔ ان لوگوں نے اکثر یہی سوال کیا کہ بہت سے ہندوستانی مسلمانوں نے ملک کی تقسیم کو کیوں قبول کیا اور کانگریس پارٹی نے جو تقسیم ملک کی مخالف ہونے کا دعویٰ کرتی تھی بالآخر ملک کی تقسیم پر کیوں راضی ہوگئی ۔ آپ کو بتادوں کہ غریب اور زیادہ تر غیر تعلیمیافتہ مسلمانوں کی اس معاملہ میں کوئی رائے نہیں تھی کیونکہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مصروف تھے لیکن تعلیمیافتہ مسلمانوں کا کیا موقف تھا ؟ ان میں سے ایک بڑی تعداد نے تقسیم کی حمایت کی ۔ مثال کے طورپر دو قومی نظریئے کے سب سے بڑی حامی جناح جب بھی علیگڑھ جاتے تھے تو تو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ اُن کی خوب خاطر مدارت کرتے اور اُن کی تائید و حمایت میں نعرے لگاتے تھے ۔ درحقیقت ان طلبہ نے مولانا آزاد کو علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر قتل کرنے کی کوشش بھی کی تھی کیونکہ مولانا ابوالکلام آزاد تقسیم کے سخت مخالف تھے اور اُس وقت دہلی سے کلکتہ جانے والی ٹرین میں سفر کررہے تھے ۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کا سوال ہے اس کے قائدین مثلاً پنڈت نہرو ، سردار پٹیل وغیرہ نے بھی تقسیم کو اس خواہش کے ساتھ قبول کیا کہ آزادی کے بعد اُنھیں وزراء ، ارکان پارلیمنٹ وغیرہ جیسے پرکشش عہدے حاصل ہوں گے ۔ میرے خیال میں پاکستان ایک جعلی اور مصنوعی ملک ہے بالکل اسرائیل کی طرح اور ہندوستانی مسلمانوں کی حالت اُس وقت تک بہتر نہیں ہوگی جب تک اس دھوکہ پر مبنی تقسیم کو ختم نہ کیا جائے اور ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کو ایک سیکولر حکومت اور ترقی پسند ذہن رکھنے والے رہنماؤں کے تحت دوبارہ متحدہ نہ کیا جائے ۔
آپ سب جانتے ہیں کہ آزادی کے بعد کانگریس کئی دہوں تک اقتدار میں رہی ، اُس نے ہندوستانی مسلمانوں سے کہاکہ اگر انھوں نے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا تو ہندونواز پارٹی جن سنگھ ( جن سنگھ بعد میں بی جے پی بن گئی ) اُنھیں ختم کردے گی ۔ چنانچہ ہندوستانی مسلمان نے متحدہ طورپر کانگریس امیدوار کو ووٹ دیتے رہے خواہ وہ بدعنوان ، بڑا مجرم بدمعاش یا ذلیل ہی کیوں نہ ہو ۔ دوسری بات یہ ہے کہ 1947 ء کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی بدحالی خود بہت سے مسلمانوں کے اقدامات کا بھی نتیجہ تھی جنھوں نے کانگریس کی مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی پر کبھی اعتراض نہیں کیا ۔