باہمی تجارت 12 ارب ڈالرس سے تجاوز ، 20 ارب ڈالرس تک پہنچانے کا ہدف، تجارتی وفود کے تبادلوں کا مستحق
قونصل جنرل ترکیہ عزت مآب اور ھان سلیمان اوکان سے بات چیت
دونوں ملکوں میں تجارت و سرمایہ کاری کے بہترین مواقع: ایم اے فیض خان
حیدرآباد ۔16۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ہندوستان اور ترکیہ کے ہمیشہ سے ہی خوشگوار تعلقات رہے ہیں ۔ خاص طور پر حیدرآباد اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک طویل تاریخ رہی ہے ۔ سلطنت آصفجاہی میں یہ باہمی تعلقات اس قدر پروان چڑھے کہ ترکی کی سلطنت عثمانیہ اور آصفجاہی سلطنت کے شاہی ارکان کے درمیان رشتہ بھی طئے پائے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خلیفہ عبدالمجید کی دختر شہزادی درشہوار کی شادی شہزادہ اعظم جاہ بہادر اور ان کی بھتیجی شہزادی نیلوفر کی شادی شہزادہ معظم جاہ بہادر سے ہوئی ۔ چنانچہ تاریخ میں دونوں شاہی خاندانوں اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو سنہری الفاظ میں درج کیا گیا ہے ۔ ترکی کی موجودہ حکومت کے صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ان تعلقات کو مضبوط و مستحکم بنانے میں مصروف ہے ۔ چنانچہ ہندوستان اور ترکیہ کی باہمی تجارت 12 ارب ڈالرس سالانہ سے تجاوز کر گئی ہے ۔ حکومت ہند اور حکومت ترکیہ نے اس باہمی تجارت کو سالانہ 20 ارب ڈالرس تک پہنچانے کیلئے ممکنہ اقدامات کرنے کے اعلانات کئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار حیدرآباد میں متعین ترکیہ کے قونصل جنرل عزت مآب اور ھان سلیمان اوکان نے نمائندہ روزنامہ سیاست و سیاست ٹی وی سے بات چیت میں کیا۔ ترکیہ قونصل خانہ حیدرآباد میں چنندہ صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ انڈو۔ ترکش فرینڈشپ اسوسی ایشن کے قیام اور اس کے مقاصد سے واقف کروایا جائے ۔ واضح رہے کہ حیدرآباد کی باوقار شخصیت اور خاندان پائیگاہ کے چشم و چراغ ایم اے فیض خان اس اسوسی ایشن کے چیرمین ، سید رفیع اشفاق نائب صدر اول اور محترمہ سری دیویا ریڈی گوتم پلی نائب صدر ، جناب رحمانی فاروقی سکریٹری جنرل، محترمہ وبھوتی جین جوائنٹ سکریٹری ، محترمہ انکا کمارا خازن ، جناب عرفان عزیز رکن عاملہ اور جناب جی ایس فاروقی رکن عاملہ ہیں ۔ اس موقع پر چیرمین انڈو برٹش فرینڈشپ اسوسی ایشن جناب ایم اے فیض خان نے اسوسی ایشن کے با رے میں تفصیلی روشنی ڈالی۔ عزت مآب ارھان سلیمان اوکان نے بتایا کہ ترکیہ ۔ ہندوستان دنیا کی بڑی تیزی سے فروغ پا رہی معیشتیں ہیں۔ ہندوستان دنیا کی 5 ویں بڑی اور ترکیہ دنیا کی 11 بڑی معیشتیں ہیں جبکہ ترکی کو یوروپ کی چوتھی بڑی معیشت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ دونوں ملکوں میں باصلاحیت لوگوں اور مواقع کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ ا یک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں ان کی تعیناتی کے بعد انہوں نے ترکیہ کے 4 تجارتی وفود کے دوروں کا اہتمام کروایا۔ اس سے پہلے دہلی ، ممبئی جیسے شہروں میں ترکیہ کے تجارتی وفود آیا کرتے تھے ، ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد کے تجارتی و سرمایہ کاروں کے حلقوں میں ترکیہ کے مختلف شعبوں بالخصوص تجارتی و سرمایہ کاری کے شعبوں میں پائے جانے والے مواقع سے متعلق شعور بیدار کیا جائے گا اور ترکیہ کے تاجرین ، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں میں حیدرآباد میں پائے جانے والے مواقع کے بارے میں شعور پیدا کیا جائے گا جس سے ہندوستان اور ترکیہ دونوں کو فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ آنے والے دنوں میں سمینار ، سمپوزیمس ، کانفرنسوں کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حیدرآباد اور حیدرآبادی عوام کے تیئیں ترک عوام کے قلوب میں خاصی جگہ ہے اور حیدرآبادی عوام بھی ترکیہ اور اس کے لوگوں سے پیار کرتے ہیں ، ان کا احترام کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں انہوں نے مزید بتایا کہ ترکی کے سیریلس اور ڈراموں کو یہاں بہت پسند کیا جاتا ہے جس کے باعث تہذیب و ثقافت کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات مستحکم کرنے کے زیادہ سے زیادہ امکانات پائے جاتے ہیں۔ قونصل جنرل کے مطابق زندگی کے ہر شعبہ میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط و مستحکم بنانے میں انڈو۔ ترکش فرینڈشپ اسوسی ایشن ایک پلیٹ فارم کا کردار ادا کرے گی ۔ جناب ایم اے فیض خان نے بتایا کہ ہندوستان اور ترکیہ کے درمیان آٹو موٹیو ، تہذیب و ثقافت ، سیاحت ، تعلیم، توانائی اور قدرتی وسائل ، طبی سیاحت ، لائف سائنس، تغذیہ و زراعت ڈیفنس و ا یروائس ، سرمایہ کاری و اسٹارٹ اپس ، انفارمیشن اینڈ کمیونکیشن ٹکنالوجی (آئی سی ٹی) انفراسٹرکچر (بنیادی سہولتوں) لاجٹکس و حمل و نقل ، مشنری ، مالیاتی خدمات ، تجارتی خدمات ، انجنیئرنگ و آرکیٹکچرل کنسلٹنگ ، رئیل اسٹیٹ ، کانکنی و معدنیات جیسے شعبوں کے ساتھ ساتھ کیمیکل انڈسٹری ، پارچہ بافی کی صنعت وغیرہ میں بھی کافی مواقع ہیں جبکہ ہندوستان بالخصوص تلنگانہ (حیدرآباد) میں ترکیہ کے صنعت کار و سرمایہ کار طبی سیاحت ، تعلیم ، انفارمیشن ٹکنالوجی (سافٹ ویر ، ہارڈویر مصنوعی ذہانت) بنیادی سہولتوں، فارما اور مہارت سے متعلق شعبوں میں سرمایہ مشغول کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ITFA ترکیہ کے تجارتی وفود کے ساتھ ہندوستانی صنعت کاروں، تاجرین اور سرمایہ کاروں کی ملاقاتوں کا اہتمام کرے گی ، اسوسی ایشن ترکیہ کے تجارتی دوروں کا انتظام کرے گی ۔ ترکیہ کی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار شروع کرنے میں مدد کرے گی ۔ اس ضمن میں صنعت کار و تاجرین اور سرمایہ کار IFTA کی رکنیت بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔ میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران عزت مآب ارھان سلیمان اوکان نے فلسطینیوں پر اسرائیلی درندگی کی سخت مذمت کی ۔