مجموعی برآمدات میں چین کی 22 فیصد حصہ داری، جرمنی ، جاپان اور امریکہ کا ہندوستانی کاروں کی خریدی
حیدرآباد۔18۔ستمبر (سیاست نیوز) ہندوستان میں تیار کردہ الیکٹرانک اشیاء اور کاروں کی دیگر ممالک میں مقبولیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ میک ان انڈیا کے تحت ہندوستان میں موٹر کاروں اور الیکٹرانک اشیاء میں موبائیل فونس کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے ۔ یوں تو چین ، امریکہ ، جرمنی اور برطانیہ میں عصری سہولتوں سے آراستہ موٹر کاریں تیار کی جاتی ہیں لیکن ہندوستانی کاروں نے ان ممالک میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے جس کے نتیجہ میں کاروں کی مجموعی برآمدات کے اہم حصہ دار چین، جرمنی ، جاپان ، برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک ہیں۔ ہندوستانی کاروں کی برآمدات سے متعلق سروے میں پتہ چلا ہے کہ کاروں کی مجموعی برآمدات کا 22.1 فیصد حصہ چین کو روانہ کیا جاتا ہے اور برآمدات کی مالیت 1903 کروڑ ہے۔ ہندوستانی کاروں کی برآمدات میں جرمنی 19.2 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جو 1651 کروڑ مالیت کی ہندوستان میں تیار کردہ موٹر کاریں حاصل کر رہا ہے۔ جاپان میں ہندوستان کی تیار کردہ کاروں کی برآمدات 19.2 فیصد درج کی گئیں اور کاروں کی ما لیت 1650 کروڑ بتائی گئی ہیں۔ بلجیم اور برطانیہ میں ہندوستانی کاروں کی برآمدات کی حصہ داری علی الترتیب 9.6 فیصد اور 9 فیصد ہے۔ امریکہ 715 کروڑ مالیت کی ہندوستانی کاریں حاصل کر رہا ہے جو مجموعی برآمدات میں 8.3 فیصد کی حصہ داری ہے۔ سویڈن کو برآمدات کا 5.3 فیصد حصہ روانہ کیا جاتا ہے جبکہ کاروں کی مالیت 460 کروڑ بتائی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں آٹو موبائیل انڈسٹری نے تیز رفتار ترقی کی ہے اور حالیہ عرصہ میں پٹرول اور ڈیزل کے علاوہ الیکٹرک کاروں کی تیاری اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت کی سطح پر آلودگی پر قابو پانے کیلئے الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ گاڑیوں کی خریدی پر رجسٹریشن اور دیگر ٹیکس کے معاملہ میں کئی رعایتیں دی جارہی ہے۔1/k/m/b