یمن کے دارالحکومت صنعا میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

,

   

یہ پیش رفت یمنی سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

پیر، 26 اکتوبر کی صبح یمن کے دارالحکومت صنعا میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ حوثی تحریک سے وابستہ میڈیا ذرائع نے شہر میں فضائی حملوں کی اطلاع دی۔

یہ واقعات اس وقت پیش آئے ہیں جب حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان کے گروپ نے یمن کے صوبوں عدن اور لحج میں سعودی حمایت یافتہ افواج اور اسلحہ کے ذخیروں کے خلاف دو کارروائیاں کی ہیں۔

یحییٰ سریع نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے عدن کے علاقے ‘صلاح الدین’ اور لحج کے علاقے ‘الواحات’ کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ کئی گاڑیاں اور اسلحہ کے ذخیرے تباہ ہو گئے۔

پیر کے روز ایک علیحدہ بیان میں، یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ حوثی فورسز نے یمن کے صوبہ تعز کے اوپر سعودی عرب کا ایک مسلح جاسوسی طیارہ ‘ونگ لونگ 2’مار گرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طیارہ دشمنانہ کارروائیاں کر رہا تھا جب اسے نشانہ بنا کر گرایا گیا۔

پیر کو ‘ایکس’ (X) پر جاری ایک بیان میں، سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یہ کارروائی حوثی تحریک کی جانب سے بار بار کیے جانے والے حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

ترکی المالکی نے بتایا کہ اتحادی افواج نے صنعا میں بیلسٹک میزائل داغنے کے دو مقامات کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے ایک مقام کا استعمال ریاض کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کے لیے کیا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق، اس کارروائی کے دوران حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بیلسٹک میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی پانچ سرنگیں، چار لانچ پلیٹ فارمز اور اسلحہ کا ایک ڈپو بھی تباہ کر دیا گیا۔

المالکی نے کہا کہ اس کارروائی میں یمن کے اندر محاذِ جنگ پر حوثی جنگجوؤں کے مورچوں اور ان کے اجتماعات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتحادی افواج حوثیوں کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کو ختم کرنے اور ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے درمیان سپلائی لائنوں (رسد کی ترسیل کے راستوں) کو منقطع کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گی۔

اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب میں شہری بنیادی ڈھانچے اور یمن کے اندر عام شہریوں کے تحفظ کے لیے آپریشنل اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایک روز قبل، یمنی فوج نے بتایا کہ اس کی افواج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 753 کارروائیوں میں تقریباً 218 حوثی جنگجوؤں اور فیلڈ کمانڈروں کو ہلاک یا غیر مؤثر کر دیا۔ فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے 78 فوجی گاڑیوں اور ہتھیاروں کو تباہ یا نقصان پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حوثیوں کی تازہ دھمکی کے باوجود ریاض ایئرپورٹ پر پروازیں بحال

فوج کے مطابق، ‘آپریشن ڈان آف یمن’ کے تحت کی گئی ان کارروائیوں میں کمانڈ سینٹرز، مورچوں، فائرنگ کی پوزیشنوں، دستوں کے اجتماعات، کمک (اضافی نفری) اور رسد پہنچانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے کہا کہ ان حملوں سے محاذِ جنگ کی جانب بڑھنے والی حوثی کمک میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور سرکاری افواج کی جانب سے کیے گئے چھاپوں اور زمینی حملوں میں مدد ملی۔

یمن ستمبر 2014 میں حوثیوں کی جانب سے صنعا اور دیگر علاقوں پر قبضے کے بعد سے تنازعے کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں وہاں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مارچ 2015 میں سعودی قیادت والے اتحاد نے مداخلت کی۔

حوثی صنعا اور شمالی و مغربی یمن کے بڑے حصوں پر قابض ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور اتحادی افواج عدن اور جنوبی و مشرقی یمن کے وسیع علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہیں۔ کچھ علاقوں پر کنٹرول کے حوالے سے تنازع برقرار ہے اور لڑائی کے باعث محاذِ جنگ کی حدود تبدیل ہوتی رہتی ہیں، خاص طور پر بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں۔