برسلز: یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار نے پیر کے روز تصدیق کی کہ غزہ جنگ میں اسرائیل کے طرزِ عمل کے حوالے سے وہ بلاک کے ممبران کو مشورہ دیں گے کہ یورپی یونین اسرائیل کے ساتھ اپنے سیاسی مذاکرات روک دے۔جوزپ بوریل نے یورپی یونین کے اجلاس سے قبل صحافیوں کو بتایاکہ کئی لوگوں نے غزہ جنگ روکنے کی کوشش کی۔۔ لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ اور مجھے ایسا ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ اس لیے ہمیں اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا اور ظاہر ہے کہ حماس پر بھی۔”چار سفارت کاروں اور رائٹرز کے ملاحظہ کردہ ایک خط کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے غزہ جنگ میں انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے گذشتہ ہفتے تجویز پیش کی تھی کہ بلاک اسرائیل کے ساتھ اپنے سیاسی مذاکرات معطل کر دے۔ڈچ وزیرِ خارجہ کیسپر ویلڈکیمپ نے کہا کہ یورپی یونین کو اسرائیل کے ساتھ بات چیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ تجویز پیش کی یہ جانتے ہوئے کہ یورپی یونین کے تمام ممبران اس کا خیرمقدم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا، نیدرلینڈز کی نظر میں اس دروازے کو کھلا رکھا جانا چاہیے۔