یونانی ادویات کے کوئی مضر اثرات نہیں۔ عوارض سے مکمل نجات بھی ممکن

   

ریاست میں ایک اور یونانی میڈیکل کالج و ہاسپٹل کے قیام کی تجویز : محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد 21 / جولائی (پریس نوٹ) یونانی ادویات بہترین ہیں جس میں کوئی سائیڈ ایفکٹ نہیں ہوتا۔ یہ دوائیاں قدرتی ہوتی ہیں، جو غذا بھی ہیں اور دوا بھی۔ ان خیالات کا اظہار وزیر داخلہ محمد محمود علی نے ایراگڈہ نیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن میں منعقدہ اجلاس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد، قدیم زمانے سے ہی یونانی دوائیوں کی تیاری اور استعمال کے لیے مشہور ہے جہاں عام طور پر یونانی دوائیوں کا استعمال عام طور پر کیا جاتاہے۔ اور حیدرآباد یونانی دوائیوں کا مرکز کہلا تا ہے ۔ حکومت تلنگانہ یونانی ادویات کو عام کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ یہ طریقہ علاج کافی فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندراشیکھر راؤ سے نمائندگی کرکے ایک اور یونانی میڈیکل کالج و ہاسپٹل کے قیام کی کوشش کی جائیگی ۔ علاوہ ازیں وزیر صحت ہریش راؤ سے نمائندگی کرکے نظامیہ طبی کالج کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت کو عنقریب نظامیہ طبی کالج کا دورہ کروایا جائیگا ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت نے 88 یونانی میڈیکل آفیسرز اور 12 یونانی لیکچررز کے تقررات کیلئے G. O. Ms. No. 107, Finance Dept., Dt. 5.7.2022 بھی جاری کیا ہے جس کو پر کرنے بہت جلد نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نظام حکومت میں یونانی ادویات کی کافی اہمیت تھی، خود نظام یونانی دوائیوں کا فروغ اور حکماء کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ملک میں یونانی دوائیوں کو کافی لوگ استعمال کرتے ہیں اور بیماریوں سے چھٹکارہ پاتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے یونانی حکیموں اور اطباء کو مشورہ دیا کہ وہ جدید طریقوں کو اپنا کر یونانی ادویات تیار کریں۔ بالخصوص ادویات کی پیاکنگ پر زور دیں اور انہیں سفر میں استعمال کے قابل بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں لوگ انگریز ی دوائیوں کا کثرت سے استعمال کررہے ہیں جن میں سے بہت سے لوگ سائیڈ ایفکٹ سے دور چار ہورہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے اجلاس میں موجود تمام یونانی اطباء سے گذارش کی کہ وہ ہر نسخہ کو عام کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یونانی دوائیوں کے نسخے پہنچے۔ جس کو استعمال کرکے مریض، شفاء حاصل کرسکے۔ انہوں نے یونانی حکیموں سے اپیل کی کہ پیشہ طب کو کمرشیل نہ بنائیں۔ کیونکہ یہ ایک مقدس اور معتبر پیشہ ہے، جس پر سبھی لوگ آنکھ بند کرکے بھروسہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اجلاس کے انعقاد پر یونانی ڈرگس مینو فیکچررس اسوسئیشن (UDMA) کے تمام ذمہ داروں کو مبارکباد پیش کر تے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں یونانی شعبہ میں اپنا حصہ ادا کریں گے۔اور یونانی ادویات کو عام کریں گے۔ اس اجلاس میں یاقوت پورہ رکن اسمبلی سید احمد پاشاہ قادری، احمد اینڈ کمپنی کے مالک انور علی خاں، ڈائریکٹر محمد سلمان، پدماشری ڈاکٹر ایم اے وحید، محکمہ آیوش (یونانی) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر وسنت راؤ، ڈاکٹر اسد پاشاہ، پروفیسر ڈاکٹر محمد احسان فاروقی، پروفیسر ڈاکٹر میر یوسف علی، ڈاکٹر غلام محمد حسین، ڈاکٹر قمر الدین، محسن علی دہلوی، متعدد یونانی حکیم، طلبہ، ریسرچ اسکالرز اور دیگر شریک تھے۔