یوپی۔د یوبند کے علماؤں نے نئے مدرسوں کی گرانٹ روکنے پر حکومت کوبنایاتنقید کانشانہ

,

   

سہارنپور۔ملک کے سب سے بڑے اسلامی جامعہ کے مرکز دیو بند کے علماؤں نے ریاست میں نئے مدرسوں کے لئے گرانٹس کی عدم اجرائی کے اترپردیش حکومت کے فیصلے پر سوال کھڑا کیاہے۔

مذہبی تعلیمات کاکام کرنے والی ایک تنظیم جمعیت دعوۃ المسلمین کے سرپرست مولانا قاری اسحاق گورا نے کہاکہ ”حکومت یہ واضح کرے کے کیو ں یہ فیصلہ لیاگیاہے“۔ گورا نے استفسار کیاکہ مذکورہ حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے یا پھر یہ فیصلہ مدرسوں کے لئے ہی لاگو ہے۔

ایک او ردیوبند نژاد عالم مولانا اسعد قاسمی نے کہاکہ ”اب حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ حکومت نئے مدرسوں کو گرانٹ نہیں دی گئی مگر ایسا فیصلہ لینے کی وجوہات نہیں بتائی گئی ہیں“۔ انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اسکولیں اور کالجوں کی تعمیرکرے۔

انہو ں نے کہاکہ مسلمانوں کے 75فیصد بچے اسکولوں اور25فیصد مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جس کے لئے مسلم کمیونٹی کی جانب عطیات دئے جاتے ہیں۔

قاسمی نے کہاکہ ”ہمیں گرانٹس نہیں چاہئے مگر اس فیصلے سے ان کی سونچ کی عکاسی ہوتی ہے“۔ حکومت کی تفصیلات کے بموجب 16461مدرسے ریاست میں ہیں اور صرف558کو ہی گرانٹس ملتی ہے۔

ریاستی وزیر اقلیتی بہبود دانش ازاد انصاری نے 18مئی کے روز کہاتھا کہ جن مدرسوں کی حکومت کی گرانٹس ملے رہی ہے یہ آگے بھی جاری رہے گی مگر کوئی نیا فائدے اٹھانے والے کو فہرست میں شامل نہیں کیاجائے گا