یوپی۔ سی اے اے احتجاج کے دوران پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سلیمان کی والدہ الیکشن لڑیں گے

,

   

خاتون نے کہاکہ ”میرے بیٹے اور حکومت کی جانب سے دبائے گئے اس جیسے بہت ساروں کے لئے انصاف کے مقصد سے میں یہ الیکشن لڑرہی ہوں“۔


اترپردیش پولیس کے ہاتھوں 2019میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) قومی راجسٹرار برائے شہریت(این آرسی) کے خلاف احتجاج کے دوران یوپی ایس سی امیدوار 20سالہ محمد سلیمان کی ہلاکت پیش ائی تھی۔

دوسال بعد ان کے والدہ اکبری خاتون یوپی کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کی امیدوار بنی ہیں۔ مذکورہ انتخابات میں خاتون بجنور اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کریں گے۔

کانگریس پارٹی کے چہارشنبہ کے روز خاتون کی نامزدگی کا اعلان کیا اور بعدازاں انہوں نے پرچہ نامزدگی بھی داخل کیاہے۔ سلیمان مخالف سی اے اے احتجاج کے دوران پولیس فائرینگ میں مارے جانے والے 23مسلمانوں میں شامل ہیں۔

انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے خاتون نے کہاکہ ”پچھلے دوسالوں سے زائد عرصہ سے انصاف کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ پولیس نے ہمیں ہراساں کیا‘ ہم پیچھے نہیں ہٹے۔

مذکورہ کانگریس نے سماج کے پسماندہ طبقات کو ایک موقع دیا ہے جو اس حکومت کی جانب سے دبائے او رہراساں ہورہے ہیں“۔

مذکورہ ہاوزوائف اور سات بچوں کی ماں نے کہاکہ ”میرے بیٹے اور حکومت کی جانب سے دبائے گئے اس جیسے بہت ساروں کے لئے انصاف کے مقصد سے میں یہ الیکشن لڑرہی ہوں“۔

ڈسمبر2019میں بجنور پولیس کی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس ائی ٹی) نے چھ پولیس جوانوں بشمول اسٹیشن ہاوز افیسر نیہاتاؤر پولیس اسٹیشن کو کلین چٹ دی‘ وہیں متوفی مسلم شخص (دیگر متوفیان) کو تشدد کا ذمہ دار بھی ٹہرایا تھا۔