دلہن کو شادی کے وقت51 ہزار روپئے ، یوگی حکومت کی مسلم طبقہ تک رسائی کی کوشش
لکھنؤ : مسلمانوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں کے تحت یوگی ادتیہ ناتھ حکومت نے سارے اترپردیش میں جاریہ سال کے دوران اس اقلیتی برادری کے زائد از 1300 جوڑوں کی شادی کا بندھن یقینی بنایا ہے۔ یہ شادیاں چیف منسٹر گروپ میاریج اسکیم کے تحت انجام دی گئی جو چند سال قبل شروع کی گئی تھی۔ قبل ازیں یہ شادیاں مختلف محکمہ جات کی جانب سے انجام دی جاتی تھیں جن میں اقلیتی بہبود کا محکمہ شامل ہے لیکن اب سے ان اجتماعی شادیوں کیلئے محکمہ سماجی بہبود کو نوڈل ایجنسی بنایا گیا ہے اور تمام دیگر محکمہ جات کے بجٹ اس محکمہ کو منتقل کئے گئے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ساری ریاست میں رواں مالی سال کیلئے 600 کروڑ روپئے اجتماعی شادیوں کے سلسلہ میں مختص کئے گئے ہیں جس میں سے محکمہ نے 81.76 کروڑ روپئے اگست تک خرچ کردیئے۔ رواں سال اپریل سے اگست تک محکمہ نے 16033 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کے انتظامات کئے۔ ان میں سے 1387 جوڑے اقلیتی برادری سے ہیں، 9374 جوڑے دلت کمیونٹی کے ہیں، 4649 جورے او بی سی زمرہ اور 623 جوڑے عام زمرہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کی شادیاں کرائی گئیں۔ ان میں سب سے زیادہ مرادآباد ڈیویژن میں 1567 شادیاں ہوئیں جن کے بعد وارانسی میں 1409، لکھنؤ میں 1274، کانپور میں 1035، ایودھیا میں 1014، میرٹھ میں 962، پریاگ راج میں 934، گورکھپور میں 933 اور بریلی میں 871 شادیاں درج ہوئیں۔ پرنسپل سکریٹری محکمہ سماجی بہبود ہری اوم نے کہا کہ آنے والے شادی سیزن میں زیادہ سے زیادہ شادیاں یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت حکومت دلہن کو شادی کے وقت 51000 روپئے فراہم کرتی ہے۔ دی جانے والی جملہ رقم میں سے 35000 روپئے دلہن کے اکاؤنٹ میں منتقل کئے جاتے ہیں جبکہ بقیہ رقم سے دلہن کیلئے گھریلو اشیاء کا انتظام کیا جاتا ہے۔ دلہے کو کوئی رقم منتقل نہیں کی جاتی ہے۔ کسی بھی ذات یا مذہب سے تعلق رکھنے والے جوڑے جو خط غربت سے نیچے ہوں، اس اسکیم سے استفادہ کرسکتے ہیں۔