یوپی میں کوئی بھی مدرسہ جعلی، فرضی یا غیر قانونی نہیں

   

مدارس کے سروے پر مدرسہ بورڈ کے صدرنشین ڈاکٹر افتخار احمد جاوید کا بیان

لکھنؤ: اترپردیش مدرسہ بورڈ کے صدرنشین ڈاکٹر افتخار احمد جاوید نے مدارس سروے سے متعلق ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مدارس کا سروے کسی قسم کی تحقیقات نہیں تھی۔ کوئی بھی مدرسہ جعلی، فرضی یا غیر قانونی نہیں ہے۔انہوں نے تمام مدارس کے انتظامیہ کو ایک پیغام بھیج کر کہا کہ حکومتیں وقتاً فوقتاً اس طرح کے سروے کیا کرتی ہیں اور اس سے حاصل ہونے والے مواد کی بنیاد پر مستقبل کا منصوبہ تیار کرتی ہیں۔ڈاکٹر افتخار احمد جاوید نے کہا کہ سروے کا چرچا اس لیے زیادہ ہوا کیونکہ پچھلی حکومتوں نے مدارس کی اصلاح کی سمت میں کوئی کام نہیں کیا تھا جبکہ موجودہ حکومت اس سلسلہ میں غور کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے سروے کو عام سروے سمجھا جائے، یہ کسی قسم کی تحقیقات نہیں تھی۔ مدرسہ شکچھا پریشدکی سفارش پر ریاست میں غیر تسلیم شدہ مدارس کے سروے کا تاریخی کام مدرسوں کے مہتمم اور منتظمین کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کیلئے مدارس سروے میں حصہ لینے والوں اور اس میں تعاون کرنے والوں کی ستائش کی۔واضح رہے کہ اترپردیش میں یوگی حکومت کی جانب سے مدارس کا سروے کرایا گیا جو پرامن اختتام پذیرہوا۔ قبل ازیں اس سروے کو لیکر خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ریاست بھر میں 8500 مدرسوں کا سروے کیا گیا تھا۔
مدرسوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ریاستی حکومت کے پاس اپنا رجسٹریشن کروائیں اور فلاحی اسکیمات کے فوائد سے استفادہ کرے جس سے ان کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔