شہریوں کو بچانے کیلئے کام کریں گے، ناٹو کا بیان
برسلز: نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) کے وزرائے خارجہ نے زور دے کر کہا ہے کہ یوکرین کے علاقوں پر روس کے قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے جنہیں روس نے گزشتہ اکتوبر میں الحاق کیا تھا۔ ان میں لوہانسک اور ڈونیٹسک کے علاوہ زپوریزیا اور کھیرسن شامل ہیں۔ انہوں نے کیف کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط بنانے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی اصلاح میں مدد کرنے کیلئے کام جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے یوکرین کی آزادی کیلئے اپنے عزم کی تجدید بھی کی۔ناٹو کے وزرائے خارجہ نے مزید کہا کہ وہ اور ان کے اتحادی یوکرین کے شہریوں کو میزائل حملوں سے بچانے کیلئے کام کریں گے۔قبل ازیں ناٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے یوکرین کیلئے فوجی اتحاد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ زدہ ملک ایک دن دُنیا کی سب سے بڑی سکیورٹی تنظیم کا رکن بن جائے گا۔اس سے پہلے ناٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے پہلے دن کے نتائج کے بعد کہا کہ ناٹو ممالک یوکرین کو پیٹریاٹ طیارہ شکن میزائل نظام کی فراہمی کے امکان پر بات چیت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ناٹو نے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو تبدیل کرنے کیلئے اسپیئر پارٹس اور پاور جنریٹر یوکرین کو فراہم کیے ہیں۔ گذشتہ مہینوں کے دوران سٹولٹن برگ نے ہمیشہ ماسکو کو اس جنگ میں شکست دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر جارحیت پسند جیت جاتا ہے تو یوکرینی سرزمین پر اس کا کوئی مستقل امن نہیں ہو سکتا‘‘۔انہوں نے بارہا اعلان کیا کہ ناٹو ممالک مزید فضائی دفاعی نظام کے ساتھ کیف کی حمایت کریں گے اور یوکرینی افواج کو جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دیں گے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ آج اور کل بخارسٹ اجلاس میں یوکرین کی سرزمین پر توانائی کے شعبے کی حمایت کے معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔گزشتہ اکتوبر 2022ء سے ماسکو نے اپنے حملوں میں ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے جس میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی جگہوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔