یوکرین قرارداد پر چھٹی‘ ساتویں مرتبہ ہندوستان غیرحاضر

,

   

یوکرین کی جانب سے پیش کردہ اس قرارد نے روس پر انسانی بحران کا ذمہ داری ٹہرایا ہے جس کو 140ووٹوں کے ساتھ 90ممالک نے منظور کیاہے جبکہ پانچ اس کے خلاف اور37غیرحاضر رہے ہیں


اقوام متحدہ۔اقوام متحدہ مدیں یوکرین سے متعلق قرارداد پر غیرحاضر رہنے کی اپنی روایت کوبرقرار رکھتے ہوئے جمعرات کے روز ہندوستان دوہری قراردادوں کاسامنا کرنے والے جنرل اسمبلی میں چھٹی او رساتویں مرتبہ کامیابی کے ساتھ غیرحاضر رہا ہے۔

روسی دور پر تنقید کرتے ہوئے اُس ملک کی جانب سے پیش کردہ یوکرین میں انسانی بحران کی قرارداد کو مذکورہ اسمبلی نے منظوری دی تھی‘ مگر اس کا گلا جنوبی افریقہ کی جانب سے پیش کردہ ایک اور قرارداد نے گھونٹ دیاجس میں ماسکو کا ذکر نہیں تھا۔

ہندوستان کے مستقبل نمائندہ ٹی ایس تریمورتی نے اسمبلی کے ایمرجنسی اجلاس میں کہاکہ یوکرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد سے نئی دہلی غیر حاضر رہا کیونکہ”اس نے دشمنی کے خاتمہ او رفوری انسانی امداد“پر ہندوستان کی متوقع توجہہ کو ”مکمل طور پرظاہر نہیں کیا“۔

یوکرین کی جانب سے پیش کردہ اس قرارد نے روس پر انسانی بحران کا ذمہ داری ٹہرایا ہے جس کو 140ووٹوں کے ساتھ 90ممالک نے منظور کیاہے جبکہ پانچ اس کے خلاف اور37غیرحاضر رہے ہیں۔

اس کے لئے دوتہائی اکثریت منظوری کے لئے درکار ہے۔ یوکرین کی جانب سے اٹھائے گئے ایک طریقہ کار کے معاملے پر‘اسمبلی نے جنوبی افریقہ کی قرارد داد کو موثر طریقے سے ختم نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔روس کوتنقید کئے بغیر اس میں انسانی امداد‘ جنگ بندی اور محفوظ راہداری برائے پناہ گزین اور اشتراک کی بات کہی گئی تھی۔

ساوتھ افریقہ کی قراردادکے خلاف65سے زائد ممالک نے ہاتھ اٹھایاجبکہ 49 نے اس پر ووٹ دینا چاہا اور 33غیرحاضررہے ہیں۔ تریمورتی نے کہاکہ انسانی امداد‘ غیر جانبداری او رآزادی پر مبنی ہونی چاہئے اور ”سیاست نہیں ہونی چاہئے“۔

انہوں نے کہاکہ ”ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی کوششیں تنازعات کو کم کرنے‘ مذاکرات او رسفارت کاری کو فروغ دینے اور فریقین کو اکٹھا کرنے کے لئے فوری طور پر تنازعات کو ختم کرنے کی ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کو پیش آرہی تکلیف کافوری خاتمہ ہوسکے“

۔ووٹ کے بعد امریکہ کی مستقبل نمائندہ لنڈا تھومس گرین فیلڈ نے رپورٹرس سے کہاکہ”میں نے جو کہا ہے اورمیں جو کہہ رہی ہوں سابق میں غیر حاضر رہنے والے ممالک سے کیا یہ غیر جانبدارنہ سطح پر ہے۔

یوکرین میں جو ہورہا ہے اس کو ہم ہر دن دیکھ رہے ہیں۔ اور ہمیں یوکرین کی عوام کے ساتھ کھڑے رہنا ہے“۔

مگر چہارشنبہ کے روز روس کی جانب سے یوکرین کے انسانی حالات پر پیش کردہ قرارداد سے امریکہ کے ساتھ ہندوستان بھی شامل ہوگیا‘ جو اس وجہہ سے ناکام ہوگئی کہ اس کے ساتھ صرف چین تھا وہیں دیگر13ممالک غیرحاضرہے اورنو ووٹوں کی ضرورت پر منظور ہونے سے یہ محروم رہ گئی تھی۔