طلبہ جلد واپسی کے خواہاں، بمباری کے نتیجہ میں پارکنگ علاقوں میں قیام، مرکز سے نمائندگی کرنے تلگو دیشم سربراہ کا تیقن
حیدرآباد۔/25 فروری، ( سیاست نیوز) یوکرین میں پھنسے ہوئے تلگو ریاستوں کے طلبہ سے صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو نے زوم ایپ پر بات چیت کی اور انہیں حوصلہ دیا۔ چندرا بابو نائیڈو نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ ہمت اور حوصلہ کے ساتھ رہیں ان کی بحفاظت واپسی کیلئے مرکزی حکومت سے نمائندگی کی جارہی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ طلبہ کو مقامی حالات کے اعتبار سے خود کی حفاظت کے اقدامات کرنے چاہیئے۔ نائیڈو نے کہاکہ پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کی حفاظت کریں تاکہ واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ تلگودیشم این آر آئی سیل کی جانب سے وقتاً فوقتاً طلبہ سے ربط قائم کرتے ہوئے ان کے مسائل کی یکسوئی کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین میں موجود تلگودیشم کے حامیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تلگو ریاستوں کے طلبہ کو تمام ضروری مدد فراہم کریں۔ صدر تلگودیشم نے کہا کہ آئندہ دو تین دن یوکرین کیلئے اہمیت کے حامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے علاوہ تلگو ریاستوں کے شہریوں کو حفاظت خود اختیاری کی تدابیر اختیار کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کسی بھی فوج کا نشانہ نہیں ہیں لہذا انہیں مکمل حوصلہ کے ساتھ چوکس رہنا چاہیئے۔ نائیڈو نے طلبہ کو بھروسہ دلایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جلد سے جلد بحفاظت واپسی کیلئے نمائندگی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ شخصی طور پر وزیر خارجہ جئے شنکر سے ربط میں ہیں۔ زوم ایپ پر بات چیت کے دوران طلبہ نے مقامی صورتحال سے چندرا بابو نائیڈو کو واقف کرایا۔ طلبہ نے بتایا کہ گھر سے باہر نکلنا خطرہ سے خالی نہیں ہے جس کے نتیجہ میں طلبہ میں خوف کا ماحول پایا جاتا ہے۔ طلبہ نے بتایا کہ صبح سے ہی بمباری کے سبب زور دار دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ طلبہ نے کہا کہ اطراف میں محفوظ مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن جنگ سے محفوظ مقامات دکھائی نہیں دیئے جس کے نتیجہ میں طلبہ اپنے گھروں میں محروس ہیں۔ طلبہ نے بتایا کہ برقی کٹوتی کے نتیجہ میں سیل فون کی چارجنگ نہیں کرپارہے ہیں اور اپنے گھر والوں سے بات چیت میں دشواری ہورہی ہے۔ کئی طلبہ نے چندرا بابو نائیڈو کو اپنی دکھ بھری داستان سنائی۔ ہزاروں افراد عمارتوں کے پارکنگ حصہ میں قیام پر مجبور ہوچکے ہیں اور جب کبھی بمباری کی آواز ہوتی ہے تو وہ اپنی حفاظت کے بارے میں اندیشوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ طلبہ نے کہا کہ وہ کسی طرح اپنی حفاظت کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد وطن واپس ہوں گے۔ ایک طالب علم نے روتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو کو بتایا کہ وہ گھر سے باہر نکلنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ سرحد سے متصل علاقوں میں رہنے والے طلبہ میں خوف کا ماحول زیادہ دیکھا گیا ہے کیونکہ اس علاقہ میں گزشتہ دو دنوں سے وقفہ وقفہ سے بمباری جاری ہے۔ر