یوکرین کی جنگ ایشیا کا بھی مسئلہ : میکرون

   

پیرس : فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے ایشیائی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین تنازعہ کے خلاف اتفاق رائے میں شامل ہو جائیں کیونکہ ’جنگ ایشیا کا بھی مسئلہ ہے۔‘فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایمانویل میکرون نے جمعے کو بنکاک میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن سمٹ کے موقع پر کاروباری رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جنگل میں ہیں اور ہمارے پاس دو بڑے ہاتھی ہیں، جو زیادہ سے زیادہ گھبرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ بہت گھبرائیں اور جنگ شروع کر دیں تو یہ باقی جنگل کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہو گا۔ آپ کو بہت سے دوسرے جانوروں کے تعاون کی ضرورت ہے: شیر، بندر وغیرہ۔‘ انہوں نے بتایا کہ فرانس اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ اس جنگ سے بہت زیادہ عدم استحکام پیدا ہو گا۔ ’ہم بالادستی پر یقین نہیں رکھتے، ہم تصادم پر یقین نہیں رکھتے ہم استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔‘ایمانویل میکرون نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو موسمیاتی تبدیلی سے لے کر معاشی بدحالی تک کئی بحرانوں کا سامنا ہے، اور ایک مربوط ردعمل کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہماری انڈو پیسیفک حکمت عملی یہ ہے کہ اس ماحول میں ایسا استحکام اور توازن کیسے فراہم کیا جائے جس میں دو بڑی طاقتوں کا تصادم نہ ہو سکے۔‘یوکرین میں روس کی جنگ کو عالمی عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے فرانس کے صدر نے کہا ’ایشیا اور دیگر جگہوں کے تمام ممالک کو اپنا فرض تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔‘خیال رہے کہ روس نے 24 فروری کو پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے مسلسل جنگ جاری ہے اور کبھی ایک کبھی دوسرے فریق کا پلڑا بھاری ہونے کے حوالے سے رپورٹس سامنے آتی رہتی ہیں۔