ماسکو : روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے چہارشنبہ کو کہا ہے کہ وہ یوکرین میں ایک لمبی جنگ دیکھ رہے ہیں لیکن وہ فی الحال مزید فوجی متحرک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔پیوٹن نے ٹیلی وڑن پر دکھائے جانے والے کریملن میں انسانی حقوق کونسل کے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ہم اپنے اختیار میں موجود تمام ذرائع سے اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب روس کو دوسرے درجے کے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتا ہے جسے اپنا وجود برقرار رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔جنگ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک خصوصی فوجی آپریشن کا تعلق ہے تو یقیناً یہ ایک طویل عمل ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ اب اپنے 10 ویں مہنیے میں داخل ہو گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ستمبر اور اکتوبر میں تین لاکھ ریزو فوجیوں کو بلانے کے بعد اب دوسری بار انہیں متحرک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس حکم کے نتیجے میں روسی عوام میں تشویش پیدا ہوئی اور بہت سے روسی شہری خود کو جنگ میں جھونکے جانے سے بچانے کے لیے ملک سے فرار ہو گئے۔