مرکزی حکومت کی جانب سے ملک کے عوام پر ایک اور مالی بوجھ عائد کردیا گیا ہے ۔ حکومت اور اس کے ذمہ داروں کی جانب سے حالانکہ عوام کو یہ تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ بوجھ ان پر نہیں بلکہ تاجروں پر ادا کیا گیا ہے لیکن اس بات کا کامل یقین ہے کہ تاجرین یہ بوجھ عوام پر ہی منتقل کردیں گے ۔ حکومت کے فیصلے کے مطابق ماہ اکٹوبر سے یو پی آئی کے ذریعہ کی جانے والی 2000 روپئے سے زائد کی ادائیگیوں پر 0.4 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا ۔ اس طرح 2001 روپئے کی ادائیگی پر 8 روپئے تاجر کو ادا کرنے پڑیں گے ۔ حکومت کی جانب سے کچھ شعبہ جات جیسے فیول ‘ ٹیلیکام خدمات ‘ انشورنس اور ریلویز پر دو ہزار روپئے پر پانچ روپئے ادا کرنے لازمی کردیا گیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ شخصی ادائیگیوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا ۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ چھوٹے تاجروں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعہ گاہکوںکو کوئی اضافی ادائیگی کرنی نہیں پڑے گی بلکہ تاجروں کو یہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔ حکومت اس طرح سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ تاجر کوئی بھی بوجھ خود برداشت نہیں کرے گا بلکہ وہ جو ٹیکس حکومت وصول کر رہی ہے اس سے زائد رقومات عوام سے ہی حاصل کرے گا ۔ قیمتوں میں اضافہ کے ذریعہ یا پھر کسی اور ذریعہ سے یہ ٹیکس کی رقم عوام سے ہی وصول کی جائے گی ۔ حکومت نے یوپی آئی ادائیگیوں کو پہلے تو فروغ دیا اور اب اس پر ٹیکس عائد کرتے ہوئے عوام پر بوجھ عائد کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے اور اس فیصلے پر وسط اکٹوبر سے عمل آوری شروع ہو جائے گی ۔ حکومت کے پاس اس بات کا کوئی میکانزم موجود نہیں ہے کہ وہ تاجروں کو اپنے نفع کی شرح کو کم کرنے پر مجبور کرے اور عوام سے یہ ٹیکس وصول کرنے سے روکے ۔ حکومت صرف اپنے منصوبہ پر عمل آوری کو یقینی بناتے ہوئے بالواسطہ طور پر عوام پر بوجھ عائد کرنے کے اقدامات کر رہی ہے اور یہ تسلی دے رہی ہے کہ عوام پر بوجھ عائد نہیں ہوگا ۔
ملک میں اب ایسا تادثر عام ہونے لگا ہے کہ لوگ صرف حکومت کو ٹیکس ادا کرنے کیلئے کمائی کر رہے ہیں۔ پہلے تو انکم ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے بعد ضرورت زندگی کی ہر شئے کی خریدی پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ۔ چاہے ادویات ہوں یا دو دھ ہو ‘ غذائی اشیاء ہوں یا کپڑے ہوں ‘ سفر ہو یا تفریح ہو ہر شئے اور ہر کام پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ۔ جی ایس ٹی نافذ کرتے ہوئے حکومت نے بلند بانگ دعوے کئے تھے کہ تمام محاصل میں یکسانیت آجائے گی ۔ تاہم جب پٹرولیم اشیا ء کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں لانے کی بات کہی گئی تو حکومت نے اس سے انکار کردیا کیونکہ پٹرولیم اشیاء پر اضافی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ جو رعایت حکومت کی جانب سے فیول ڈیلرس کو دی جاتی ہے وہ عوام تک نہیں پہونچ پاتی اور ڈیلرس مقررہ شرح تک ٹیکس عوام سے ضرور وصول کرلیتے ہیں۔ بینک کھاتوں سے اے ی ایم کارڈ استعمال کرتے ہوئے رقومات نکالنے پر ٹیکس لگادیا گیا ہے ۔ چار مرتبہ کے بعد ہر ایک بار کیلئے کچھ روپئے منہا کرلئے جاتے ہیں۔ بینکوں کی جانب سے سرویس چارج کے نام پر الگ سے وصولی کی جاتی ہے اور اب دو ہزار روپئے سے زائد کی ادائیگی پر تاجروں سے رقم وصول کرنے کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے ۔ یہ وصولی بھی تاجروں کے نام پر عوام سے ہی کی جائے گی کیونکہ کوئی بھی تاجر اپنی تجارت سے ہونے والے نفع میں کمی کو قبول کرنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہوگا ۔
مختلف ذرائع سے آمدنی کو یقینی بنانے اور کارپوریٹس سے اضافی شرح ٹیکس وصول کرکے عام آدمی کو راحت دینے کی بجائے حکومت کی جانب سے عام آدمی پر مسلسل بوجھ عائد کیا جا رہا ہے اور حکومت کے قریبی کارپوریٹس کے ہزاروں کروڑ روپئے کو معاف کیا جا رہا ہے ۔ یہ حکومت عوام کی بہتری اور فلاح کیلئے کام کرنے کی بجائے کارپوریٹس کی فلاح کیلئے کام کر رہی ہے اور عوام پر مسلسل بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ ملک کے عوام کو یہ حقیقت ذہن نشین رکھنے اور حکومت سے جواب طلب کرنے کی ضرورت ہے ۔