ممبئی۔21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلی منوہر جوشی کے فرزند یومنش نے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی تیسرے دن بھی چہارشنبہ کے روز تفتیش جاری رہی۔ یہ تفتیش 450 کروڑ روپیوں سے زائد قرضہ جات اور حصص میں آئی ایل اینڈ ایف ایس کی کوہ نور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں سے متعلق رکھتی ہے۔ اس فرم کو یومنش اور نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے اور ان کے قریبی آدمی راجن شروڈکر نے باہم مل کر قائم کیا تھا جس کا مقصد غیر کارکرد کوہ نور مل کی اراضی کو خریدکر اسے تعمیر کے قابل بنایا تھا۔ ٹھاکرے بعدازاں اس کمپنی سے نکل گئے۔ اس کمپنی نے بعد میں 2008 ء میں ممبئی میں کوہ نور اسکوائر ٹاور تعمیر کیا۔ تحقیقات کے دوران غیر قانونی طور پر ناجائز سرمایہ کاری کا پتہ لگانے والے ادارے نے 22 اگست کو سیاحت کے لیے راج ٹھاکرے کو طلب کیا۔ اس کے علاوہ ان کے دوست شروڈکر کو بھی بلوایا گیا ہے۔ یومنش نے کہا کہ انہوں نے 2008ء کے بعد ٹھاکرے سے شراکت داری ختم کردی تھی۔