حلقہ جات کی تین زمروں میں تقسیم، 8 پر یقینی کامیابی اور 6 پر سخت مقابلہ، ریونت ریڈی کی ماہرین سے مشاورت
حیدرآباد۔/9 اپریل، ( سیاست نیوز) کانگریس نے تلنگانہ میں 14 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی کیلئے منفرد حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حالیہ عرصہ میں منعقد کئے گئے سروے رپورٹس کی بنیاد پر لوک سبھا حلقہ جات کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے تاکہ انتخابی حکمت عملی پر موثر انداز میں عمل آوری کی جاسکے۔ تین علحدہ زمرہ جات کے تحت یقینی کامیابی، سخت مقابلہ اور کامیابی کے امکانات کم کے تحت لوک سبھا حلقہ جات کو تقسیم کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جن حلقہ جات میں سخت مقابلہ اور جہاں پر کامیابی کے امکانات کم بتائے گئے ہیں وہاں ہر اعتبار سے زیادہ توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اسٹار کیمپنرس کے پروگرام ان حلقوں میں منعقد کئے جائیں گے جہاں سخت مقابلہ ہے۔ ریونت ریڈی نے حکومت کی چار ماہ کی کارکردگی کو الیکشن سے مربوط کرتے ہوئے اسے ریفرنڈم قرار دیا ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے انتخابی حکمت عملی کی تمام تر ذمہ داری ریونت ریڈی کو سونپ دی ہے اور وہی اسٹار کیمپنرس کے پروگرامس طئے کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے انتخابی حکمت عملی کے ماہرین کے ساتھ حالیہ سروے رپورٹس کا جائزہ لیا۔ یقینی اور آسانی سے کامیابی سے متعلق پہلے زمرہ میں 8 لوک سبھا حلقوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں نلگنڈہ، بھونگیر، کھمم ، محبوب آباد، پداپلی، ناگرکرنول، ظہیرآباد اور ورنگل شامل ہیں۔ دوسرے زمرہ میں 6 لوک سبھا حلقے شامل کئے گئے جہاں سروے کے مطابق کانگریس کو سخت مقابلہ درپیش رہے گا۔ سروے میںکہا گیا ہے کہ اگر 6 حلقہ جات پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے تو کم از کم چار میں کامیابی یقینی ہے۔ یہ حلقہ جات عادل آباد، نظام آباد، چیوڑلہ، ملکاجگری، سکندرآباد اور محبوب نگر ہیں ان میں سے تین حلقہ جات پر بی جے پی سے سخت مقابلہ درپیش ہوسکتا ہے کیونکہ وہاں بی جے پی کے سیٹنگ ارکان ہیں۔ تیسرے زمرہ کے تحت تین لوک سبھا حلقوںکو شامل کیا گیا جہاں کامیابی کے امکانات کم دکھائے گئے ہیں یہ حلقہ جات کریم نگر، میدک اور حیدرآباد ہیں۔ ریونت ریڈی نے آخری دونوں زمرہ جات کی انتخابی مہم پر زیادہ توجہ مبذول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مذکورہ حلقہ جات میں بی آر ایس اور بی جے پی سے وابستہ قائدین کو کانگریس میں شامل کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے تاکہ کانگریس ووٹ بینک مستحکم ہو۔ چیف منسٹر نے دوسرے زمرہ کے حلقہ جات سے وابستہ قائدین کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ متحدہ طور پر مہم کو یقینی بنایا جائے۔ چیف منسٹر نے بوتھ سطح تک پارٹی کیڈرکو مضبوط بنانے کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ کامیابی کے کم امکانات والے دو حلقہ جات میں کانگریس نے ابھی تک اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے جن میں کریم نگر اور حیدرآباد شامل ہیں۔ کھمم لوک سبھا حلقہ کے امیدوار کا اعلان باقی ہے لیکن کھمم لوک سبھا حلقہ یقینی کامیابی کے زمرہ میں شامل ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اندرون 24 گھنٹے کانگریس کی سنٹرل الیکشن کمیٹی تین لوک سبھا حلقوں کے امیدواروں کا اعلان کردے گی۔1