محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 4 نومبر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں تعلیم کا رحجان نہیں ہے یا حکومت ان کی تعلیم کے متعلق سنجیدہ نہیں ہے ۔ حکومت تلنگانہ کے اقامتی اسکولس میں اگر سوشیل ویلفیر و اقلیتی اقامتی تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ مسلم طلبہ کی حالت دلت طلبہ سے بدتر ہے ۔ کالوجی نارائن ہیلت یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس میں داخلوں کیلئے پہلی کونسلنگ میں تلنگانہ سوشیل ویلفیر ریسیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی TSWREIS کے 94 طلبہ نے پہلے مرحلے میں ایم بی بی ایس نشستیں حاصل کیں جبکہ تلنگانہ میناریٹیز ریسیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس ( ٹمریز) میں زیر تعلیم 4 طلبہ میں 3 طلبہ نے ایم بی بی ایس اور ایک نے بی ڈی ایس نشست حاصل کی ہے ۔ اقلیتی اقامتی جونئیر کالجس کے جو 4 طلبہ کونسلنگ کے ذریعہ میڈیسن میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ان میں دو غیر اقلیتی طلبہ ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ محض صرف دو مسلم طلبہ کو نشست حاصل ہوئی ہے ۔ گذشتہ سال تلنگانہ سوشیل ویلفیر ریسیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی کے 236 طلبہ کو میڈیکل کالجس میں نشستیں ملی تھیں ۔ اس کا نوٹ لینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد کے جی تا پی جی تک مفت تعلیم فراہم کرنے کے وعدے کو پورا کرنے چیف منسٹر کے سی آر نے ایس سی ایس ٹی بی سی و اقلیتی طلبہ کیلئے الگ سوسائٹیز تشکیل دے کر اقامتی اسکولس ، جونئیر کالجس کا قیام عمل میں لایا جاہاں ہر طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ قیام و طعام کی مفت سہولتیں ہیں ۔ جتنے اقلیتی اقامتی اسکولس و کالجس تلنگانہ میں ہیں اس کی ملک بھر میں کہیں نظیر نہیں ملتی ۔ حکومت نے سماج کے تمام طبقات کیلئے معیاری عتلیم فراہم کرنے کا ڈھانچہ تیار کیا ہے۔ ان سوسائٹیز کی ذمہ داری سیول سرویسز کے تجربہ کار عہدیداروں اور مشیروں کے حوالے کی ہے ۔ پھر کیا وجہ غیر اقلیتی اقامتی تعلیمی اداروں کے طلبہ مسابقتی امتحانات میں بہترمظاہرہ کرکے نشستیں حاصل کر رہے ہیں اور اقلیتی طلبہ معیاری تعلیمی مظاہرہ کرنے مختلف کورسیس میں نشستیں پانے میں ناکام ہیں ۔ اس پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ یہ سب ایک ریاست میں ایک حکومت کی نگرانی میں ہے ۔ہمیں دوسری ریاستوں سے تقابل کی ضرورت نہیں ۔ اقلیتی اور غیر اقلیتی سبھی طلبہ پر سالانہ اخراجات بھی مساوی ہیں ۔ غیر اقلیتی اقامتی طلبہ کو کس انداز سے پڑھایا جارہا ہے ۔ کس نصاب کو پڑھایا جارہا ہے ۔ کیا ماہرین تعلیم کی خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔ وہاں جو خوبیاں ہیں یہاں کیا کمی ہے اس کا جائزہ لینے اور اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب نتائج آتے ہیں متعلقہ وزراء صرف ستائشی بیانات دیتے ہیں ۔ مگر حکومت اس جانب کبھی توجہ نہیں دیتی کہ ایک ہی حکومت کے تحت اقامتی تعلیمی اداروں کا انتظام ہے پھر نتائج میں فرق کیوں آرہا ہے ۔ اگر اس کا چیف منسٹر کی سطح پر اعلی سطحی اجلاس طلب کیا جاتا تو اقامتی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی ۔ نہ کبھی اعلی سطحی اجلاس طلب کیا گیا اور نہ ہی نتائج اچھے اور خراب آنے کی وجہ دریافت کی گئی اور نہ ہی ذمہ داروں سے نقائص کی وجہ طلب کرتیہ وئے جو خرابیات کمزوریاں ہیں اس کو دور کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ۔ اگر ذمہ داروں سے جواب طلبی کا نظام ہوتا تو اقلیتی طلبہ بھی بہتر مظاہرہ کرتے ۔ اس پر حکومت اور اقلیتی اقامتی تعلیمی اداروں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج چار طلبہ کا پہلی کونسلنگ میں انتخاب ہوا ہے۔ طلبہ کی تربیت پر خصوصی تربیت دی جائے ۔ غیر اقلیتی اقامتی تعلیمی ادارے جو حکمت عملی تیار کر رہے ہیں وہی حکمت عملی ، طریقہ تعلیم طلبہ کی حوصلہ افزائی کا فارمولہ کمزور و ذہین طلبہ کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پر خصوصی توجہ دی جائے تو شاہد اور بھی مزید بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔