584 جونیر کالجس بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی مسلمہ حیثیت سے محروم

   


1.5 لاکھ طلبہ کا مستقبل خطرہ میں، حکومت کی مداخلت ضروری
حیدرآباد 5 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں جونیر کالجس کو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی جانب سے مسلمہ حیثیت دیئے جانے کیلئے نئی شرائط سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل خطرہ میں پڑچکا ہے۔ انٹرمیڈیٹ کے تعلیمی سال کا دو ماہ قبل آغاز ہوگیا لیکن 584 جونیر کالجس کو ابھی تک مسلمہ حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف وجوہات کے نتیجہ میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن نے مسلمہ حیثیت دینے سے انکار کردیا ہے۔ زائداز دیڑھ لاکھ طلبہ کا مستقبل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے فیصلہ کے نتیجہ میں خطرہ میں پڑچکا ہے۔ حکومت کو اِس معاملہ میں فوری مداخلت کرنی چاہئے۔ تعلیمی سال 2022-23 ء کے لئے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن نے مارچ میں نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ 1582 کالجس نے مسلمہ حیثیت کے لئے درخواست دائر کی جن میں سے 786 کالجس کو مسلمہ حیثیت دی گئی۔ باقی 584 کالجس کے لئے درکار شرائط کی کمی کو بہانہ بناکر روک دیا گیا ہے۔ اب جبکہ تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے، غیر مسلمہ کالجس کے طلبہ کے لئے تعلیمی مستقبل کو بچانے کے لئے حکومت کو مداخلت کرنی چاہئے۔ ر