60 فیصد ڈسکاؤنٹ کے پیچھے آن لائن شاپنگ کا اصل سچ

   

ڈارک پیٹرنز سے صارفین کو سالانہ 28 کروڑ کا نقصان، تہواروں کے آفرس سے محتاط رہنے کا مشورہ
حیدرآباد۔ 7 اکتوبر (سیاست نیوز) تہواروں کے سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی ایمزون، فلپ کارڈ اور منترا جیسے مصروف ای کامرس پلیٹ فارمس پر سیل اور پرکشش آفرس کی بھرمار شروع ہوچکی ہے تاہم 60 فیصد ڈسکاؤنٹ صرف ایک ہفتہ رہے گا، یا 2 دن میں ختم ہو جائے گا، جیسے پیشکش اور اعلانات کے پیچھے آن لائن شاپنگ سائٹس کا ایک بڑا جال چھپا ہوا ہے۔ جسے تکنیکی اور قانونی زبان میں (Dark Patterns) کہا جاتا ہے۔ ان گمراہ کن ہتھکنڈوں اور نفسیاتی دباؤ کے باعث ملک کے آن لائن خریداروں کو ہر سال اربوں روپے کا چونا لگایا جارہا ہے۔ بعض اوقات خریدار کسی فون پر 30 فیصد ڈسکاؤنٹ اور 30 منٹ کی الٹی گنتی دیکھ کر جلدی میں خریداری کرلیتے ہیں جبکہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وہی پروڈکٹ کچھ دن پہلے یا بعد میں 50 فیصد رعایت پر دستیاب ہوتی ہے۔ صرف ڈسکاؤنٹ کا فیصد اصل بچت کا تعین نہیں کرتا بلکہ اصل معیار بنچ مارک (Base Price) ہوتی ہے۔ (Datams intellignce) کی 2026 میں شائع کردہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 50 شہروں کے 2,590 صارفین اور 12 معروف ای کامرس، کوٹیک کامرس وٹریول پلیٹ فارمس کا مطالعہ کیا گیا جس میں انکشاف ہوا کہ ڈارک پیٹرنز کی وجہ صارفین کو سالانہ 25 ہزار سے 28 ہزار کروڑ روپے کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ سروے میں شامل 81 فیصد خریداروں نے اعتراف کیا کہ وہ ڈارک پیٹرنز اور ان تکنیکو سے واقف ہونے کے باوجود بھی ان کے بہکاوے اور گمراہ کن اشتہارات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سنٹرل کنزیوم پروٹیکشن اتھاریٹی (CCPA) نے 13 مختلف اقسام کے ڈارک پیٹرنز کی نشاندہی کی ہے جو خریداروں کے فیصلے کو زبردستی یا دھوکے سے متاثر کرتے ہیں۔ حکومت ای کامرس کمپنیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے نئے ضوابط تیار کررہی ہے۔ کمپنیوں کو ڈارک پیٹرنز کو ہٹانے Self Audit کرنے اور تعمیل کا اعلان جمع کروانا لازمی ہوگا۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر اس تہوار کے سیزن کے دورن آن لائن شاپنگ میں کسی قسم کا دھوکہ یا گھپلہ نظر آئے تو ثبوت (اسکرین شاٹ ؍ بل) کے ساتھ نیشنل کنزیوم ہیلپ لائن نمبر 1915 پر فوری شکایت درج کروائیں۔ 2؍F