75فیصد میزائل اور ڈرون صلاحیتیں ہنوز فعال : ایران

   

تہران، 12 اگست (یو این آئی) امریکی میزائل ذخائر میں شدید کمی کی اطلاعات کے درمیان ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی 75 فیصد سے زائد میزائل اور ڈرون صلاحیتیں اب بھی برقرار اور فعال ہیں، جس کے باعث تہران واشنگٹن کے ساتھ طویل جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ایرانی فوج کے ڈپٹی ایگزیکٹو افسر بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی 75 فیصد سے زیادہ میزائل اور ڈرون صلاحیتیں آپریشنل اور تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار بلا تعطل جاری رہنے کے باعث ایرانی مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں، ڈرونز اور میزائلوں کی تیاری میں ایک لمحے کیلئے بھی تعطل نہیں آیا۔
شیخ کے مطابق، فوجی سازوسامان کی مقامی سطح پر دوبارہ تیاری کی صلاحیت ایران کی طویل جنگ لڑنے کی اہلیت کا ایک اہم عنصر ہے۔
ان کے بقول میزائل اور ڈرون صلاحیتوں نے ایران کے فوجی نظریے کو محض دفاعی پوزیشن سے آگے بڑھا کر بازدارندگی اور فعال کارروائی کی جانب منتقل کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میزائل اور ڈرونز کے شعبوں میں چونکہ ایران کی صلاحیتیں اندرونِ ملک موجود وسائل سے پیدا ہوتی ہیں، اس لیے تہران طویل عرصے تک فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ایرانی جنرل نے ملک کی فوجی صلاحیت کو میزائل فورسز، ڈرونز، فضائی و زمینی افواج، سائبر صلاحیتوں اور انٹیلی جنس سمیت مختلف شعبوں پر مشتمل ایک مربوط نظام قرار دیا۔ ان کے مطابق میزائل اور ڈرونز الگ تھلگ مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتے بلکہ ان کی کامیابی مختلف فوجی صلاحیتوں کے باہمی تعاون پر منحصر ہے ۔انہوں نے اراش ڈرون کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے آپریشنل ضروریات کے مطابق متعدد مرتبہ جدید بنایا گیا ہے ۔ ان کے مطابق ایران نے حالیہ جنگوں کے دوران درپیش رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اپنی ٹیکنالوجی کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا۔