حیدرآباد۔5جولائی (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے Gap سرٹیفیکیٹ کا لزوم صرف اوورسیز اسکالر شپس میں ہی نہیں بلکہ NEET اور دیگر کورسس میں زیر تعلیم طلبہ کے لئے بھی مشکلات کا باعث بننے لگا ہے ۔ NEET کی تیاری کیلئے طلبہ انٹرمیڈیٹ کے ساتھ رینک نہ پر طویل مدتی تربیت لیتے ہیں اور اس دوران طلبہ کی ریگولر تعلیم میں ایک سال کی فرق آتا ہے اور اب ان کو بھی Gap سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا پڑے گا ۔ علاوہ ازیں گذشتہ 2تا3 برسوں میں تلنگانہ کے طلبہ جنہوں نے ایس ایس سی یا انٹرمیڈیٹ کے بعد کورونا اور لاک ڈاؤن کے سبب داخلہ حاصل نہیں کیا تھا ان سے بھی Gap سرٹیفیکیٹ طلب کیا جا رہاہے جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ طلبہ نے بتایا کہ انہیں علم نہیں تھا کہ انٹر کے بعد کورسس میں داخلہ کیلئے Gap سرٹیفیکیٹ کا لزوم ہے لیکن اب کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرٹیفیکیٹ جمع نہ کروائے جانے پر ان کا داخلہ منسوخ کردیا جائیگا۔ بتایاجاتا ہے کہ انٹر کے بعد لاک ڈاؤن کے سبب داخلہ نہ لینے والے طلبہ اوراب جبکہ کورونا شرائط کا خاتمہ ہوا ہے تو جن طلبہ نے داخلہ حاصل کیا اور تعلیم میں جو فاصلہ آیا ہے اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انہیں Gapسرٹیفیکیٹ پیش کرنا ہوتا ہے اور اس کیلئے سختی طلبہ اور اولیائے طلبہ وسرپرستوں کیلئے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔