نوجوانوں کی آبادی 29 فیصد، ملک میں نوجوانوں کے احتجاج سے مرکز پریشان
حیدرآباد ۔29 ۔ جولائی (سیاست نیوز) نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء کے خلاف ملک میں کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام کے بعد سے نوجوان اپنی طاقت کے مظاہرہ میں کچھ اس قدر آگے بڑھ گئے کہ بی جے پی حکومت کو مطالبات کے آگے جھکنا پڑا۔ یوں تو بی جے پی کے 12 سالہ دور حکومت میں اپوزیشن کی جانب سے کئی عوامی امور پر احتجاج کیا گیا لیکن مودی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے قیام کے بعد پہلے احتجاج کے ذریعہ ملک میں نوجوانوں (Gen Z) کی طاقت کا لوہا منوایا ہے۔ بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد شائد یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی کئی ریاستوں میں نوجوانوں میں حکومت کے خلاف آواز بلند کی۔ اگرچہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا اقتدار ختم ہوگیا لیکن مطالبات کی عدم تکمیل کی صورت میں دوبارہ احتجاج کی دھمکی نے حکومت کے ایوانوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ ملک میں نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان ریاستوں میں Gen Z کی آبادی کا سروے کیا گیا۔ 15 تا 29 سال عمر کے نوجوانوں کی آبادی میں جموں و کشمیر ، بہار اور جھارکھنڈ کا شمار نوجوان آبادی والی ریاستوں میں ہوتا ہے ۔ جنوبی ہند کی ریاستوں میں کیرالا و ٹاملناڈو میں نوجوانوں کی آبادی کسی قدر کم ہے۔ نوجوانوں کی آبادی کے اعتبار سے مستقبل میں تعلیم ، روزگار، امکنہ اور دیگر ضروریات کے تعین میں حکومتوں کو حکمت عملی تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی آبادی 29.5 فیصد درج کی گئی جبکہ بہار میں 29.3 اور جھارکھنڈ میں 28.7 فیصد درج کی گئی۔ نوجوانوں کی اوسط آبادی والی ریاست میں اترپردیش ، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ، اتراکھنڈ ، ہریانہ اور آسام شامل ہیں جہاں 25 تا 27 فیصد آبادی 15 تا 29 سال عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ مغربی بنگال ، اڈیشہ ، تلنگانہ ، مہاراشٹرا ، گجرات میں نوجوانوں کی آبادی 24 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ آندھراپردیش میں 22.8 فیصد ، کرناٹک 23.5 فیصد، ٹاملناڈو 21.6 فیصد اور کیرالا میں 21.1 فیصد نوجوان آبادی ریکارڈ کی گئی ہے۔1/k/m/b