صرف آدھار کارڈ ناکافی، حیدرآباد میں 46.8 فیصد ۔ رنگاریڈی میں 32فیصد ۔ میڑچل ملکاجگری میں 12فیصد نوٹس جاری
فارم 6 اور 8کے ساتھ ڈیکلریشن کا نیا شوشہ، عمر کے تین مختلف زمرو ں کیلئے علحدہ قواعد نافذ
حیدرآباد : 4 ستمبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی کا عمل انتخابی حکام کی پیچیدہ شرائط اور نوٹس کی وجہ سے عام شہریوں بالخصوص نوجوان ووٹرس کیلئے شدید الجھن کا سبب بن گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کی تازہ ہدایت کے مطابق 22 سال سے کم عمر یعنی 2 ڈسمبر 2004 کے بعد پیدا ہوئے تمام نوجوان ووٹرس کو نوٹس کا جواب دیتے وقت صرف اپنا آدھار کارڈ پیش کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ انہیں الیکشن کمیشن سے منظور شدہ 12 مخصوص دستاویزات کی فہرست میں سے جملہ 3 شناختی کارڈس ( خود کا ، والد کا اور والدہ کا ) لازمی طور پر فراہم کرنا ہوگا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کا نام ووٹر لسٹ سے یکسر منسوخ کردیا جائے گا ۔ اس کے برعکس یکم جولائی 1987ء سے پہلے پیدا ہوئے ووٹرس کو کوئی ایک شناختی کارڈ اور یکم جولائی 1987 سے 2ڈسمبر 2004ء کے درمیان پیدا ہونے والوں کو خود اور والدین میں سے کسی ایک کا جملہ دو شناختی کارڈ جمع کروانا ہوگا ۔ انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس ان ووٹرس کو بھیجے جارہے ہیں جن کے نام ، والد کا نام ، تاریخ پیدائش ، جنس یا پتہ 2002 کے ووٹر لسٹ سے میاپنگ کی تفصیلات انتخابی ریکارڈ میں درج نہیں یا غلط ہے ۔ الیکشن کمیشن نے 17 اگست 2026کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ کا اعلان کیا تھا اور شیڈول کے مطابق اسی دن سے نوٹس کی اجرائی شروع ہونی تھی لیکن انتخابی عملہ کی سستی اور نوٹس کی اشاعت میں تاخیر سے ایک ہفتہ کی تاخیر ہوگئی جس کا اثر گریٹر حیدرآباد کے تینوں اضلاع میں دکھائی دے رہا ہے اور اعداد و شمار کے مطابق ضلع حیدرآباد میں 12,53,876 لاکھ ووٹرس یعنی 46.8 فیصد ووٹرس کو ہی نوٹس جاری کی گئی ۔ ضلع رنگاریڈی میں 12,33,485 لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کرنا ہے تاہم ابھی تک 3,94,700 (32فیصد) ووٹرس کو نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ ضلع میڑچل ملکاجگری میں 14,07,38 لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کرنا ہے ، تاہم ابھی تک 1,64,485 (11.7فیصد) ووٹرس کو نوٹس جاری کی گئی ۔ گریٹر حیدرآباد کے تینوں اضلاع میں نوٹس کی اجرائی کافی سست روی کا شکار ہے ۔ ووٹرس کی بڑی تعداد صرف آدھار کارڈ کے ساتھ بی ایل او ، ERO کے دفاتر یا ان کے نشاندہی کردہ مقامات کو پہنچ رہی ہے لیکن عہدیدار عمر کے لحاظ سے مزید 2 یا 3 شناختی کارڈس طلب کرکے بیشتر شہریوں کو واپس لوٹا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ نئے ووٹرس اندراج کیلئے فارم ۔6 اور تفصیلات کی تصحیح کیلئے فارم ۔8 جمع کرانے والے شہریوں کیلئے لازمی ڈیکلریشن فارم جوڑنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے جس سے عام شہریوں بالخصوص نئے ووٹرس میں تشویش اور برہمی پائی جاتی ہے ۔2