آر ٹی سی ہڑتال کے دوران ڈرائیور کی خودسوزی کی کوشش، حالت نازک

   

جے اے سی نے ہڑتال میں مزید شدت پیدا کرنے کیلئے شیڈول کا اعلان کردیا، ٹرانسپورٹ نظام مفلوج
حیدرآباد ۔23۔ اپریل (سیاست نیوز) آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال دوسرے میں شامل ہوگئی ہے۔ حکومت اور ہڑتالی ملازمین کے درمیان اتفاق رائے قائم نہ ہونے کے بعد ریاست کے تمام بس ڈپوز تک محدود رہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ نرسم پیٹ ڈپو کے ڈرائیور شنکر گوڑ نے مبینہ طور پر خود پر پٹرول ڈالر خود سوزی کرنے کی کوشش کی جس کے بعد آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAC) نے ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور احتجاج میں مزید شدت پیدا کرنے شیڈول جاری کردیا۔ جے اے سی کے مطابق شنکر گوڑ اس وقت ورنگل کے ایم جی ایم اسپتال میں زیر علاج ہے اور وہ تقریباً 70 فیصد جھلس چکے ہیں جہاں ان کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ کمیٹی نے اس واقعہ پر گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آخر کب تک آر ٹی سی ملازمین کو اپنے جائز مطالبات کے لئے اس طرح کی قربانی دینی پڑے گی۔ جے اے سی قائدین اے وینکنا ، ایم تھامس ریڈی ، محمد مولانا ، ایس سریش ، کے یادیا اور بی یادگیری نے الزام لگایا کہ حکومت ہڑتالی ملازمین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کر رہی ہے اور پرامن احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کارروائیوں اور دباؤ کے باعث ملازمین ذہنی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اس واقعہ کو خود سوزی کے بجائے ایک سنگین احتجاجی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہئے اور حکومت و آر ٹی سی انتظامیہ کو فوری طور پر ذمہ داری قبول کرنی چاہئے ۔ جے اے سی نے مطالبہ کیا کہ شنکر گوڑ کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائے تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جاسکے۔ ساتھ ہی جے اے سی نے ہڑتال کے مطالبات کو فوری طور پر حل کرنے کا ملازمین میں پھیلے تناؤ کو ختم کرنے اور ایک پرامن ماحول قائم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ کمیٹی نے ملازمین سے بھی اپیل کی کہ وہ جذبات میں آکر کسی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کریں اور اتحاد کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں کیونکہ مسائل کا حل خود سوزی نہیں ہے۔ جے اے سی نے آر ٹی سی ہڑتال پر حکومت کی خاموشی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے مستقبل میں احتجاج میں شدت پیدا کرنے کیلئے حکمت عملی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت جے اے سی نے 24 اپریل کو تمام ڈپوز کے روبرو خاموش احتجاج منظم کرنے کا اعلان کیا۔ 25 اپریل کو بس ڈپوز میں کھانا پکانے کا احتجاج اور 26 اپریل کو اضلاع میں لیبر پریڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 27 اپریل کو عوامی نمائندوں ، ارکان اسمبلی ، ارکان پارلیمنٹ اور وزراء کو یادداشتیں دینے کا اعلان کیا۔ 28 اپریل کو خواتین ملازمین کے ساتھ احتجاج اور 29 اپریل کو بس ڈپوز کے سامنے نیم برہنہ احتجاج کرنے کا اعلان کیا ۔ ریاست میں جاری آر ٹی سی ہڑتال کے دوران ایک افسوسناک واقعہ سامنے آنے کے بعد جے اے سی نے اپنی ہڑتال میں شدت پیدا کرنے کا اعلان کردیا ہے جس سے ریاست میں پہلے سے ہی عوامی ٹرانسپورٹ نظام متاثر ہوکر رہ گیا ہے اور اب اس سانحہ کے بعد صورتحال مزید حساس ہوتی جارہی ہے۔2/k/m/b