آفات سماوی کی روک تھام پر توجہ ‘ انسانی جانوں کے اتلاف کو روکنا ممکن

   

آفات سماوی کے بعد وجوہات کا جائزہ لینے کی متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کا این آئی ڈی ایم میں خطاب

نئی دہلی، 10 ستمبر (یو این آئی) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ ملک کا ڈزاسٹر مینجمنٹ راحت اور بحالی پر مرکوز نظام سے آگے بڑھ کر خطرے کو کم کرنے ، پیشگی اطلاع اور ‘زیرو کیژولٹی (صفر جانی نقصان) کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ انہوں نے جمعرات کے روز کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور نئی ٹیکنالوجیز کے باعث مستقبل میں آفتوں کے بڑھنے اور نئی شکلیں سامنے آنے کا اندیشہ ہے ، ایسے میں تحقیق، پیشگی تیاری اور ‘ہول آف گورنمنٹ’ نقطہ نظر کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ امیت شاہ نے یہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈزاسٹر مینجمنٹ (این آئی ڈی ایم) کے انسٹی ٹیوٹ باڈی کی تیسری میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ہر آفت کے بعد نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے )، این آئی ڈی ایم، نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور اسٹیٹ ڈزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی مشترکہ ٹیم سے نقصان کی وجوہات کا مطالعہ کرنے اور تفصیلی رپورٹ تیار کرانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے این ڈی ایم اے اور این آئی ڈی ایم سے ملک بھر کیلئے ایسا واضح رہنما ہدایت نامہ (گائیڈ لائنز) تیار کرنے کو کہا، جس میں ہر آفت کے دوران کیا کرنا ہے ، کیا نہیں کرنا ہے اور کس طرح کارروائی کرنی ہے ، اس کی معلومات ہو۔ این آئی ڈی ایم تربیت نیز این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور دیگر ایجنسیوں کے زمینی نفاذ پر توجہ دیں گی۔ وزیر داخلہ نے تمام متعلقہ شعبوں میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کے ایجنڈے کے نفاذ کیلئے خصوصی سیل قائم کرنے اور محکمہ جات کے سربراہان کے ذریعے کم از کم ہر تین ماہ میں جائزہ لینے کو کہا۔ انہوں نے بیرونِ ملک ہو رہی ڈزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق تحقیق اور بہترین اقدامات کو ہندوستانی حالات کے مطابق اپنانے پر بھی زور دیا۔ محکمہ زراعت کو پاکستان کی طرف سے آنے والے ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے مستقل تیاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔ امیت شاہ نے کہا کہ آفت کی روک تھام کا سب سے موثر ذریعہ ماحولیاتی تحفظ ہے ۔ ‘مشن لائف’، ‘پرو پلینٹ پیپل’ اور انٹرنیشنل سولر الائنس جیسے اقدامات کو انہوں نے آفت کے خطرے کو کم کرنے کی جامع حکمتِ عملی سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ‘زیرو کیژولٹی’ کا مطلب صرف آفت کے دوران جان بچانا نہیں، بلکہ آفت کے اندیشے کو پہلے ہی کم کرنا اور اسے روکنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 11 سالوں میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تقریباً 2.5 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
اسٹیٹ ڈزاسٹر ریسپانس فنڈ میں تقریباً چار گنا اور نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فنڈ میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے ۔ ڈزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ میں دو دہائیوں بعد ترمیم، شہری ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام، قومی و ریاستی سطح پر ڈیجیٹل ڈزاسٹر ڈیٹا بیس کا آغاز اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ کمیٹی کو قانونی درجہ دینے کو انہوں نے نظام میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے طور پر گنایا۔ اس مدت کیلئے 16ویں فنانس کمیشن نے بھی تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کا التزام کیا ہے ۔ امیت شاہ نے کہا کہ این آئی ڈی ایم کو تحقیق، جدت طرازی، تربیت، پالیسی معاونت اور محکماتی تعاون کا قومی مرکز بناتے ہوئے اسے عالمی سطح کا ادارہ بنانا ہے ۔ اس کیلئے حکومت نے حال ہی میں چار ایکڑ زمین بھی مختص کی ہے ۔ اگرچہ بین الاقوامی تعاون ضروری ہے ، لیکن ترجیح ملک کے پانچ لاکھ دیہاتوں اور شہروں کو آفت سے محفوظ بنانا ہونی چاہیے ۔ انہوں نے این آئی ڈی ایم کی کم از کم سال میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ لازمی طور پر منعقد کرنے کی ہدایت دی، تاکہ فیصلوں کا موثر نفاذ یقینی ہو۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ڈی ایم کے ذریعے علم کو صلاحیت میں، صلاحیت کو تیاری میں اور تیاری کو نتائج میں بدل کر ‘زیرو کیژولٹی’ کے ہدف کی طرف بڑھنا ہوگا۔