کشی نگر: اترپردیش کے ضلع کشی نگر میں کسانوں کو خریف کی فصل کسی بھی صورت بہتر ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ۔ پہلے جہاں سوکھے کی مار نے کسانوں کی فصل کو بونے سے باز رکھا اور آپباشی کے ذریعہ جن کسانوں کی دھان کی کاشت کی تھی وہ اب سیلاب کی زد میں ہے ۔کشی نگر میں 1.24لاکھ ہیکٹر دھان کی کاشت ہوئی ہے ۔ جون مہینے میں آخری ہفتے میں مانسون کے سرگرم ہونے اوراس کے بعد ڈرائی اسپیشل میں جانے کی وجہ سے کسانوں کی دھان کی فصل چلچلاتی دھوپ میں سوکھ گئی۔ کسان پمپنگ سیٹ سے آپباشی کر کے کسی حدتک دھان کو ہرابھرا رکھنے کی کوشش کے بعد بارش سے مایوس ہوکر فصل کو چھوڑ چکے تھے ۔دھوپ کی وجہ سے ضلع میں 50فیصدی فصلیں متاثر ہوگئیں ستمبر مہینے کے د وسر ہفتے میں مانسون کے لوٹنے کے وقت لگاتار ہورہی بارش سے چاروں طرف پانی ہی پانی ہوگیا ہے ۔اب اس بارش کی وجہ سے جن 50فیصدی کسانوں کی فصل کسی طرح سے سوکھے سے بچی تھی ان میں سے زیادہ تر کی اب سیلاب کی زد میں ہے ۔کسیا کے سدھاویں و ٹیکوآٹار سریہہ میں پانی سے فصل ڈوب گئی ہے ۔ تو کنکوھریا و بیریا کے گاوں کے نزدیک کسانوں کی فصل سیلاب کی زد میں ہے ۔محکمہ موسمیات نے 21ستمبر تک بارش کی پیشین گوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کیاہے ۔