اردو دشمن بی جے پی اپنے دفاع کیلئے اردو کے استعمال پر مجبور

   

ٹی آر ایس کے گجراتی ٹوئیٹ کا اُردو میں جواب، ایک دوسرے پر ناکامیوں کا الزام

حیدرآباد۔/3 جولائی، ( سیاست نیوز) بی جے پی کی اردو دشمنی ہر کسی پر عیاں ہے لیکن جب کسی کو موثر انداز میں جواب دینا ہوتا ہے تو اردو زبان کی یاد آجاتی ہے۔ ٹی آر ایس کی جانب سے مرکزی حکومت کی ناکامیوں پر گجراتی زبان میں ٹوئیٹ کیا جس کا جواب بی جے کی جانب سے اردو زبان میں دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے ہر مرحلہ پر اردو زبان کی کھل کر مخالفت کی حتیٰ کہ اردو میں روزگار سے مربوط امتحانات کو منسوخ کرنے کی مہم چلائی۔ انہوں نے برسراقتدار آنے پر اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ختم کرنے کا بھی اعلان کیا لیکن ریاستی بی جے پی کے ٹوئٹر ہینڈل سے ٹی آر ایس کو جواب دینے کیلئے اردو زبان کا استعمال کیا گیا۔ اس طرح مخالف اردو بی جے پی صدر کے ریاستی یونٹ کو اردو زبان کا سہارا لینا پڑا۔ ٹی آر ایس نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ مودی جی اور ان کی پارٹی تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے غیر معمولی ترقیاتی کاموں کا اعتراف کرنے میں ناکام ہوچکی ہے لہذا وزیر اعظم کی زبان میں تلنگانہ کے چند کارنامے پیش کئے جارہے ہیں۔ پارٹی نے گجراتی زبان میں حکومت کے 5 کارناموں کو پیش کیا جس کے جواب میں ریاستی بی جے پی کے ٹوئٹر ہینڈل سے اردو میں ٹی آر ایس کی 10 ناکامیوں کا حوالہ دیا گیا۔ ٹوئٹر میں لکھا گیا کہ مسٹر کے سی آر عوام آپ سے بیزار ہوچکے ہیں اور آپ تلنگانہ کے مسائل پر بہرے ہوچکے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کے سی آر اور دارالسلام کے سوپر سی ایم ان کی ترجیحی زبان میں کہنے پر کیا سماعت کریں گے۔ان الفاظ کے بعد اردو میں 10 نکات پیش کئے گئے۔ اردو زبان میں جن اُمور کو پیش کیا گیا اُن میں خوشحال ریاست کو قرض میں ڈبو دینا، کے سی آر خاندان کیلئے بنگارو تلنگانہ، عوامی نظام صحت اور نظام تعلیم ابتر، خواتین غیر محفوظ، ہزاروں کسانوں کی خودکشی، دلتوں کو 3 ایکر اراضی کے وعدہ کی عدم تکمیل، دلت چیف منسٹر کی عدم موجودگی، قبائیلیوں کو بنجر زمین کا انتظار، پالمور ضلع کی نقل مکانی جاری اور ٹی آر ایس کے ارکان اور وزراء پر بلاخوف و خطر رشوت خوری میں ملوث ہونے کے الزامات شامل ہیں۔ بی جے پی نے کے سی آر کے ساتھ اُن کی حلیف جماعت کے صدر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ر