اردو زبان سے نفرت، بھٹکل میں اردو سائن بورڈز کے خلاف احتجاج

   

میونسپل کونسل آفس سے اردو بورڈ نکال دیا گیا، انگریزی اور کنڑ کے ساتھ اردو کی شمولیت پر اعتراض
حیدرآباد۔/29 جون، ( سیاست نیوز) کرناٹک میں ہندو تنظیموں کی جانب سے کسی نہ کسی مسئلہ پر فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے حصہ کے طور پر بی جے پی نے فرقہ پرست طاقتوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو وقفہ وقفہ سے مختلف مسائل پر ماحول بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ٹیپو سلطان، لو جہاد، مندروں پر مساجد کی تعمیر، اذان پر پابندی اور بیف جیسے مسائل کے بعد اب اردو زبان کو لے کر ماحول کو کشیدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اُتر کنڑا ضلع کے بھٹکل ٹاؤن میں اردو سائن بورڈز کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا اور میونسپل کونسل حکام کو دھمکی دی گئی کہ اگر اندرون تین یوم اردو سائن بورڈ نہیں ہٹایا گیا تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔ بھٹکل میونسپل کونسل کی عمارت پر کنڑ اور انگلش زبانوں کے ساتھ اردو کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ میونسپل کونسل نے ٹاؤن میں مختلف محلہ جات کے ناموں کے سائن بورڈز پر اردو کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ بھٹکل میں اردو داں طبقہ کی قابل لحاظ آبادی ہے۔ کنڑ زبان کے حمایتی کارکنوں نے انگلش اور کنڑ کے ساتھ میونسپل کونسل کی عمارت پر اردو کی شمولیت پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں زبانوں کے ساتھ اردو کو شامل نہ کیا جائے۔ اگرچہ حکام نے اردو داں طبقہ کی موجودگی کا حوالہ دیا لیکن تنظیموں نے اردو کی مخالفت میں اس قدر شدت کا مظاہرہ کیا کہ حکام کو اپنے فیصلہ پر نظرِ ثانی کرنی پڑ رہی ہے۔ تنظیموں نے میونسپل کونسل آفس کے روبرو دھرنا منظم کیا اور آفس میں جبراً داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے احتجاجیوں کو منتشر کردیا۔ موافق کنڑ احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں ہر کوئی کنڑ زبان سے واقف ہے لہذا اردو کے استعمال کی کوئی ضرورت نہیں۔ بھٹکل میں مسلم اقلیت کی قابل لحاظ آبادی موجود ہے اور کئی اہم دینی ادارے بھٹکل میں برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مقامی افراد کی نمائندگی پر حکام نے اردو زبان کو سائن بورڈ پر شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ احتجاج کے بعد حکام نے اردو سائن بورڈ کو نکال دیا۔ بھٹکل فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے اور ہر سال کسی نہ کسی مسئلہ پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ مقامی حکام اردو سائن بورڈ کے مسئلہ پر احتجاجیوں کو منانے کی کوشش کررہے ہیں۔ر