اسرائیل کا امریکی ثالثی میں لبنان کیساتھ سمندری معاہدہ

   


دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ مسائل کی یکسوئی کا امکان

تل ابیب: اسرائیل نے امریکہ کی ثالثی میں لبنان کے ساتھ سمندری سرحد کی حد بندی کے معاہدے کے مسودے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی تحت دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ مسئلہ حل ہوگا۔ میڈیامیں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی سفیر اموس ہوچسٹین کی طرف معاہدہ پیش کیا گیا تھا، اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی درمیان سمندر پار توانائی کی تلاش کی راہ ہموار ہوگی اور رواں ہفتے کے آخر میں یہ گیس لبنانی اور اسرائیلی حکام کو پہنچا دی گئی۔لبنانی حکام نے معاہدے کی شرائط کی تصدیق کی ہے اور اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے معاہدہ پر جلد از جلد جواب دینے کا وعدہ کیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم یائرلاپیڈ نے اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں بتایا کہ یہ تجویز اسرائیل کے قومی سلامتی اور معاشی مفادات کا مکمل تحفظ کرتی ہے، ہماری حکومت معاہدے کی حتمی تفصیلات پر تبادلہ خیال کرے گی، اس لیے تجویز پر مکمل انحصار کرنا ممکن نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ ہم اول روزسے اصرار کررہے ہیں کہ یہ تجویز اسرائیل کے قومی سلامتی کے مفادات کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشی مفادات کا بھی مکمل تحفظ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور ان کی زمینی سرحد پر اقوام متحدہ کا کنٹرول ہے۔اسرائیل نے لبنان کے سمندری سرحدی معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔یاد رہے کہ 2020 میں اسرائیل نے اپنی سمندری سرحد پر مذاکرات کو دوبارہ بحال کردیا تھا لیکن لبنان کے اقوام متحدہ کے نقشے میں ترمیم کے مطالبے کے بعد یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔ان مذاکرات میں پیشرفت اس وقت ہوئی جب لبنان نے اپنی ترجیحات بدلنا شروع کیں، یہ ترجیہات خاص طور پر کریش فیلڈ کے حوالے سے تھیں کیونکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ کریش فیلڈ پر مذاکرات بحال نہیں ہوئے۔لبنان کی شیعہ تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیل نے کریش فیلڈ سے پیداوار شروع کی تو وہ حملہ کریں گے۔ اسرائیلی وزیراعظم یائرلاپیڈ کا کہنا تھا کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اسرائیل لبنان کے ساتھ معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہمیں لبنان میں ایک اضافی گیس فیلڈ کی تعمیرمیں کسی مخالفت کا سامنا نہیں جس سے ہمیں یقیناً ہمارا حصہ ملے گا، اس طرح کا میدان لبنان کے ایران پر انحصار کو کمزور کرے گا۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ہوچسٹین کی تجویز قانونی جائزے کے بعد حتمی منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔اسرائیل میں یکم نومبرکو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل معاہدے میں پیشرفت ہوئی۔دوبارہ اقتدار میں واپسی کے خواہاں سابق وزیراعظم بنجامین نیتن یاہو نے اس بات کا عندیا دیا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو اس معاہدے کو ختم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ’اگر یہ غیرقانونی معاہدہ منظور ہوتا ہے تو ہم اس کے پابند نہیں ہوں گے’۔