نیویارک : امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی فوج غزہ میں مزاحمتی تنظیم حماس اور فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کیلئے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لئے اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے جس میں ایک اے آئی انفیوزڈ آڈیو ٹول بھی شامل ہے جس سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فون کالز کہاں سے کی جا رہی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں یہ دعویٰ امریکی اور اسرائیلی حکام نے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا۔ اخباری رپورٹ میں اکتوبر 2023 میں ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے کا بھی ذکر شامل ہے جس میں آڈیو ٹول کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے حماس سنٹرل جبالیہ بٹالین کے اہم کمانڈر ابراہیم بیاری کو تلاش کر کے شہید کیا تھا۔ اے آئی آڈیو ٹول ایک دہائی قبل تیار کیا گیا تھا لیکن 2023 کے دوران اس میں جدّت لگائی گئی۔ حملے میں اسرائیلی فوج نے مبینہ طور پر شمالی غزہ کے علاقہ جبالیہ میں بے گھر فلسطینیوں کے کیمپ کے نیچے سرنگ میں ابراہیم بیاری کے فون کی سرگرمی کا پتا لگایا تھا۔ امریکی اور اسرائیلی حکام نے بتایا کہ حملے میں 100 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے تھے ۔