اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد کی ٹرائیل کے بغیر جیل میں 4 سال کی تکمیل

   

(سچ بولنے کی قیمت چکانی پڑتی ہے)
عصمت ریزی کا سزاء یافتہ گرمیت رام رحیم 275 دن پیرول پر،عدلیہ کا دوہرا معیار، ’ نیویارک ٹائمز‘ میں خصوصی رپورٹ

حیدرآباد۔/27 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ہندوستان میں سچ بولنے کی قیمت آج بھی چکانی پڑ رہی ہے۔ مرکز میں نریندر مودی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد جہد کاروں اور طلباء قائدین کی آوازوں کو کچلنے کیلئے مقدمات کا سہارا لیا جارہا ہے۔ ملک کی عدالتوں سے ملزم ہی نہیں مجرم بھی رہا ہورہے ہیں لیکن مظلوموں کے حق میں حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والے کئی جہد کار کسی سماعت کے بغیر جیلوں میں بند ہیں۔ نئی دہلی میں 2020 فسادات کے سازشی کے طور پر اسٹوڈنٹ لیڈر عمرخالد کو یو اے پی اے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس قانون کے تحت گنجائش موجود ہے کہ عدالت میں کسی ٹرائیل کے بغیر بھی ملزم کو طویل عرصہ تک جیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ عمر خالد نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا تھا اور ان کی ایک تقریر کو بنیاد بناکر ان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات عائد کئے گئے۔ عمر خالد کسی ٹرائیل کے بغیر جیل میں 1500 دن مکمل کرچکے ہیں اور 4 سال کی قید و بند کی یہ صعوبتیں کب ختم ہوں گی کہا نہیں جاسکتا۔ قیدی نمبر 626710 عمر خالد عدالت سے انصاف کی امید کے ساتھ ہر پَل ایک اذیت کے ساتھ جیل میں بسر کررہے ہیں لیکن جیل ان کے حوصلوں کو پست نہ کرسکی۔ عمر خالد کے جیل میں چار سال مکمل ہونے پر ہندوستان میں بہت کم ہمدردی کی آوازیں اٹھیں لیکن بیرونی ممالک کے اخبارات نے خصوصی رپورٹس شائع کی ہیں۔ ’ نیویارک ٹائمز‘ میں صحافی سہاسنی راج نے ایک صفحہ پر مشتمل رپورٹ شائع کی جس میں عمر خالدکو بے بنیاد الزامات کے ذریعہ ہراساں کرنے کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ کئی جہد کاروں اور صحافیوں نے عمر خالد کی جیل میں چار سال کی تکمیل پر ویڈیوز تیار کئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عمر خالد ہفتہ میں ایک بار لیاپ ٹاپ کے ذریعہ اپنے افراد خاندان سے ورچول ملاقات کرتے ہیں۔ ان کی والدہ صبیحہ خانم اور والد سید قاسم رسول الیاس نے ’ نیویارک ٹائمز ‘ کو بتایا کہ انہوں نے اپنے فرزند سے عدالت میں سماعت کے موقع پر آخری مرتبہ ملاقات کی تھی۔ ہندوستان میں عدلیہ کی غیرجانبداری پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کسی ٹرائیل کے بغیر ایک شخص کو چار سال تک جیل میں رکھا جاتا ہے لیکن عصمت ریزی کے جرم میں عمر قید کی سزاء پانے والا گرمیت رام رحیم جب چاہے پیرول پر تفریح کیلئے جیل سے باہر نکل جاتا ہے۔ گرمیت رام رحیم سزاء ملنے کے بعد سے ابھی تک 275 دن پیرول پر جیل سے باہر زندگی گذارچکا ہے جبکہ عمر خالد کے معاملہ کی عدالت نے سماعت تک نہیں کی۔ دہلی پولیس نے یو اے پی اے قانون کے تحت عمر خالد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور ثبوت کے طور پر جو تقریر پیش کی گئی اس میں عمر خالد نے ملک کے خلاف ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا ہے۔ ’ نیویارک ٹائمز‘ نے لکھا کہ 2015 سے 2020 کے دوران یو اے پی اے قانون کے تحت جو گرفتاریاں ہوئی ہیں ان میں 3 فیصد سے کم کو عدالت نے سزاء دی۔ عمر خالد کی ضمانت کی درخواست 14 مرتبہ سپریم کورٹ میں ملتوی ہوچکی ہے۔ فروری میں عمر خالد نے سپریم کورٹ سے ضمانت کی درخواست واپس لے لی اور یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں اسمبلی اور دیگر انتخابات سے عین قبل گرمیت رام رحیم کو پیرول پر رہا کیا گیا اور الیکشن میں اس کے اثر و رسوخ سے بی جے پی نے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ گرمیت رام رحیم جیسے سزاء یافتہ افراد کو سزاء کے دوران عدالتیں پیرول پر رہا کررہی ہیں لیکن عمر خالد کی ضمانت کے معاملہ میں کئی ججس نے خود کو سماعت سے علحدہ کرلیا۔ ہندوستان کی عدلیہ کے بارے میں عوام میں مختلف اندیشے پائے جاتے ہیں۔ آخر عمر خالد اور گرمیت رام رحیم کے ساتھ انصاف میں تضاد کیوں ہے۔ سپریم کورٹ کے کئی ججس نے حالیہ عرصہ میں طویل عرصہ تک ضمانت کے بغیر جیلوں میں رکھنے کی مخالفت کی لیکن یہ اُصول عمر خالد پر لاگو نہیں کیا گیا۔ عمر خالد کے علاوہ گلفشاں بھی ضمانت کے بغیر جیل میں بند ہیں۔ سپریم کورٹ نے حالیہ عرصہ میں کئی سنگین معاملات کے ملزمین کو ضمانت منظور کی لیکن عمر خالد کا قصور شائد یہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور وہ سچ بولنے کی قیمت چکارہے ہیں۔1