کابل : افغانستان کی 18 سالہ طالبہ نے طالبان کے کئی اقدامات کو برداشت کیا لیکن یونیورسٹی میں خواتین پر تعلیم حاصل کرنے کی پابندی کے خلاف اکیلے احتجاج کیا۔’اے ایف پی‘ کے مطابق ماروا نے مزید شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ زندگی میں پہلی بار مجھے فخر، مضبوطی اور طاقت ور ہونے کا احساس ہوا کیونکہ میں اُن کے خلاف کھڑی تھی اور اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہی تھی جو اللہ نے ہمیں دیے ہیں۔افغانستان میں جامعات میں اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے خلاف خواتین نے شدید احتجاج کیا جو کہ اسلامی ملک میں شاز و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ شرکا کو گرفتاری، تشدد اور سماجی بدنامی کا خطرہ تھا لیکن ماورا ثابت قدم رہی۔مزید بتایا گیا کہ ملک کی سب سے بڑی جامعہ کابل یونیورسٹی میں دروازے سے چند میٹر کے فاصلے پر ماورا کھڑی تھی اور اس نے ہاتھ میں پوسٹر اٹھا رکھا تھا جبکہ اس کی ہمشیرہ نے اس خاموش احتجاج کی اپنی کار میں بیٹھ کر ویڈیو بنائی تھی۔21 دسمبر کو ڈان کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے ملک میں خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی تھی، افغانستان کی وزارت ہائر ایجوکیشن نے تمام سرکاری اور نجی جامعات کو جاری خط میں لکھا تھا کہ غیرمعینہ مدت کے لیے لڑکیوں کی جامعات میں تعلیم پر پابندی ہوگی۔