اعلیٰ طبقات کے پسماندہ افراد کو تحفظات کے خلاف سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن

   

ٹاملناڈو کی برسر اقتدار ڈی ایم کے کا فیصلہ، عدالت کے اختلافی فیصلہ پر چیف منسٹر اسٹالن کا کُل جماعتی اجلاس
حیدرآباد۔/9 نومبر، ( سیاست نیوز) معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو10 فیصد تحفظات کی فراہمی کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تحفظات کے مجموعی فیصد پر ملک بھر میں مباحث کا آغاز ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ نے سابق میں تحفظات کے بارے میں مجموعی فیصد کو 50 تک محدود کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے مطابق مختلف ریاستوں میں تحفظات کو 50 فیصد سے کم رکھا گیا ہے۔ چند ریاستیں ایسی ہیں جہاں مجموعی تحفظات 50 فیصد سے زائد ہیں۔ مرکز کی جانب سے اعلیٰ طبقات سے تعلق رکھنے والے معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں کو 10 فیصد تحفظات کی فراہمی پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بعض گوشوں نے فیصلہ کو چیالنج کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ ٹاملناڈو جہاں مجموعی تحفظات 68 فیصد ہیں وہاں کی برسر اقتدار پارٹی ڈی ایم کے نے سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ طبقات کو تحفظات کی ہرگز تائید نہیں کی جاسکتی۔ ڈی ایم کے کا استدلال ہے کہ 10 فیصد تحفظات صرف معاشی پسماندگی کی بنیاد پر دیئے جانے سے کمزور طبقات سے ناانصافی ہوگی۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے اختلافی فیصلہ میں اکثریت کی بنیاد پر تحفظات کی تائید کی تھی جبکہ 2 ججس نے تحفظات کو غیر دستوری قراردیا تھا۔ اب جبکہ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ متفقہ طور پر نہیں آیا ہے لہذا تحفظات کے مخالفین کو ریویو پٹیشن دائر کرنے کی گنجائش مل چکی ہے۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے 12 نومبر کو لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے۔ ڈی ایم کے کے جنرل سکریٹری ڈی مورگن نے کہا کہ معاشی طور پر پسماندہ اعلیٰ طبقات کے افراد کو تحفظات کی فراہمی سماجی انصاف کے اُصولوں کے خلاف ہے۔ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر اپوزیشن جماعتوں کی رائے حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر اسٹالن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں سماجی انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرے گا۔ انہوں نے تمام ہم خیال جماعتوں سے سماجی انصاف کو بچانے اور 10 فیصد تحفظات کے خلاف جدوجہد میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ ڈی ایم کے نے سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن کیلئے نامور وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی دوران چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے تحفظات کی فراہمی کیلئے 50 فیصد کی موجودہ حد کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ر