8 سال میں اقلیتوں پر 6 ہزار کروڑ کا خرچ جبکہ دلت بندھو اسکیم کیلئے 17700 کروڑ ، 8 سال میں 18 ہزار اقلیتوں کو سبسیڈی جبکہ دو لاکھ سے زائد دلت خاندانوں کو فائدہ
حیدرآباد ۔28 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت تمام طبقات کی یکساں ترقی کے اقدامات کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن دلت طبقہ کی ترقی کے لئے شروع کردہ تازہ اسکیم دلت بندھو سے اقلیتی بہبود اسکیمات کا تقابل کیا جائے تو حکومت کے یکساں ترقی کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔ حکومت نے ہمیشہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی بھلائی کیلئے بلند بانگ دعوے کئے لیکن عمل آوری دیگر طبقات کیلئے کی جارہی ہے۔ گزشتہ 8 برسوں میں اقلیتی بہبود پر حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 6644 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جبکہ حال ہی میں شروع کی گئی دلت بندھو اسکیم پر 2021-22 ء میں 3100 کروڑ اور 2022-23 ء میں 17700 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا لیکن ایس ٹی طبقہ کے تحفظات کو 6 فیصد سے بڑھاکر نہ صرف 10 فیصد کردیا گیا بلکہ سرکاری ملازمتوں میں عمل آوری کے احکامات جاری کردیئے گئے ۔ اقلیتوں کے ساتھ کئے گئے حکومت کے بیشتر وعدے صرف زبانی اور کانوں کو خوش کرنے والے ثابت ہوئے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ کی اجرائی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ مسلمانوں کے جلسوں میں ٹی آر ایس قائدین دعویٰ کرتے ہیں کہ چیف منسٹر ہندو اور مسلمان کو اپنی دونوں آنکھ تصور کرتے ہیں۔ نظام حیدرآباد نواب میر عثمان علی خاں کی رعایا پروری اور مذہبی رواداری کی تقلید کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے لیکن عمل آوری کے معاملہ میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے جاتے۔ حکومت نے حضور آباد اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کامیابی کیلئے دلت بندھو اسکیم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت غریب دلت خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے کی مالی امداد فراہم کی جارہی ہے ۔ اقلیتوں کیلئے مالی امداد سے متعلق اسکیم اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ عمل کی جاتی ہے ۔ بینکوں سے مربوط قرض اور سبسیڈی سے متعلق اسکیم کے ذریعہ اگرحکومت چاہے تو ہر غریب مسلمان کو کم از کم پانچ لاکھ روپئے کی مالی امداد فراہم کرتے ہوئے خود مکتفی بنانے کے اقدامات کرسکتی ہے لیکن کارپوریشن کے ذریعہ ایک لاکھ روپئے جاری نہیں کئے گئے ۔ سبسیڈی اسکیم پر گزشتہ 8 برسوں میں عمل آوری کا جائزہ لیں تو 18684 افراد میں 155.33 کروڑ کی اجرائی عمل میں لائی گئی ۔ 2021-22 سے سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری نہیں کی گئی کیونکہ کارپوریشن کو حکومت کی جانب سے گائیڈ لائینس کی اجرائی کا انتظار ہے۔ بجٹ کی موجودگی کے باوجود کارپوریشن اسکیم پر عمل آوری سے قاصر ہے۔ دوسری طرف دلت بندھو کے استفادہ کنندگان کا جائزہ لیں تو ابھی تک 31,000 سے زائد دلت خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جاچکی ہے جبکہ مزید 2.82 لاکھ خاندانوں کو یہ امداد جاری کی جائے گی۔ بینک سے مربوط کئے بغیر حکومت راست طورپر امدادی رقم جاری کر رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے اقلیتی بہبود کی مختلف اسکیمات کے بارے میں کارناموں کی طرح رپورٹ جاری کی گئی لیکن بجٹ کی اجرائی اور خرچ پر تاحال کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ دلت بندھو اسکیم کے کارناموں پر حکومت نے آج تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق صرف دو سال میں دلت استفادہ کنندگان کی تعداد اقلیتوں کے 8 سال میں استفادہ کنندگان سے زیادہ ہے ۔ کریم نگر کے حضور آباد اسمبلی حلقہ میں جولائی 2021 ء کو اسکیم کا آغاز کیا گیا تھا ۔ باوجود اس کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ حضور آباد اسمبلی حلقہ میں 15402 دلت خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی گئی جس کے تحت انہوں نے ٹریکٹرس اور دیگر زرعی مشنریاں حاصل کی ہیں۔ دوسرے مرحلہ میں بھونگیر کے آلیر اسمبلی حلقہ میں دلت بندھو اسکیم پر عمل کیا گیا اور صرف ایک گرام پنچایت میں 75 خاندانوں کو امداد منظور کی گئی۔ ستمبر 2021 ء کے کھمم ، سوریا پیٹ ، ناگر کرنول اور کاما ریڈی اضلاع کے ایس سی اسمبلی حلقہ جات مدھیرا ، تنگاترتی ، اچم پیٹ اور جوکل میں دلت بندھو اسکیم پر عمل کیا گیا۔ حکومت نے 2021-22 ء میں 118 اسمبلی حلقوں میں فی کس 100 خاندانوں کو اسکیم کے تحت منتخب کرتے ہوئے جملہ 11800 دلت خاندانوں میں امداد تقسیم کی ۔ 2021-22 ء میں 31000 خاندان اس اسکیم سے مستفید ہوئے ہیں جن میں 4441 کروڑ کی اجرائی کا تخمینہ مقرر کیا گیا۔ 2022-23 ء میں ہر اسمبلی حلقہ میں 1500 خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کا منصوبہ ہے جس کے لئے 17700 کروڑ مختص کئے گئے ۔ دلتوں سے تقابل کیا جائے تو اقلیتوں کی بھلائی پر خرچ کی جانے والی مکمل رقم انتہائی معمولی ہے ۔ دلتوں کی ایک اسکیم کا بجٹ اقلیتوں کی تمام اسکیمات کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ اس طرح کے امتیازی سلوک کے نتیجہ میں اقلیتوں میں بے چینی کی توقع کیسے نہیں کی جاسکتی۔ ر