اقلیتی اقامتی اسکول و جونیر کالج نرسا پور کے انچارج پرنسپال معطل

   

طلبہ اور ملازمین سے رشوت حاصل کرنے کے الزام پر کارروائی
حیدرآباد۔ یکم مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی نے نرسا پور اقامتی اسکول، جونیر کالج بوائز کے انچارج پرنسپال کو مبینہ بدعنوانیوں کے تحت معطل کردیا ہے۔ سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ نے اس سلسلہ میں احکامات جاری کئے۔ معطلی کے احکامات میں کہا گیا ہے کہ انچارج پرنسپال پربھاکر نے داخلہ کیلئے بعض غیر اقلیتی طلبہ سے رشوت حاصل کی اس کے علاوہ تقررات کیلئے اسٹاف سے رقومات حاصل کی۔ انہوں نے پرنسپال کے عہدہ کے اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے کالج کے سامان جیسے سلینڈر، چکن اور پانی کا اپنے گھر میں شخصی اغراض کیلئے استعمال کیا۔ سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی نے اس سلسلہ میں دستیاب شواہد کی بنیاد پر پربھاکر کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے فوری اثر کے ساتھ معطلی کے احکامات جاری کئے ہیں۔ تحقیقات کی تکمیل تک انہیں نرسا پور میں موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور وہ اجازت کے بغیر ہیڈ کوارٹر نہیں چھوڑ سکتے۔ واضح رہے کہ اقلیتی اسکولس اور جونیرکالجس کے پرنسپالس کی اکثریت کا تعلق غیر اقلیتی طبقات سے ہے اور ان میں سے بیشتر کے بارے میں بے قاعدگیوں کی شکایات عام ہیں۔ اسکولس اور کالجس میں اقلیتی طلبہ کے ساتھ ہراسانی کے علاوہ ایک مخصوص مذہب کی رسومات کو مسلط کرنے کی شکایات کے باوجود اقامتی اسکول سوسائٹی کی جانب سے کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ ر