چیف منسٹر نے 8 ماہ قبل تقررات کا اعلان کیا ، محکمہ فینانس سے 6 ماہ قبل منظوری ، پھر بھی تعطل برقرار
ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اقامتی طلبہ کی بہ نسبت مسابقتی امتحانات میں اقلیتی طلبہ کا مایوس کن مظاہرہ
حیدرآباد /25 نومبر ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولس کی 1445 جائیدادوں پر تقررات کرنے کا 8 ماہ قبل اعلان کیا اور محکمہ فینانس نے 6 ماہ قبل اس کو منظوری بھی دے دی تھی اور حکومت نے تقررات کی ذمہ داری تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے سپرد کردی تھی تاہم اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے معاملے میں ٹال مٹول کی پالیسی اپنانے سے طلبہ کی بڑی حد تک تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ سرکاری اسکولس میں ہی نہیں بلکہ محکمہ ویلفیر کے گروکل اسکولس میں بھی اساتذہ کی قلت پائی جاتی ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکولس میں معیاری تعلیم قیام و طعام کی مفت سہولتوں کی فراہمی کی وجہ سے والدین نے اپنے بچوں کو سرکاری اسکولس سے نکال کر اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلہ کردیا ہے تاکہ ان کے بچوں کا مستقبل روشن بن سکے اور وہ مسابقتی امتحانات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے پروفیشنل کورسیس میں داخلہ حاصل کرسکے ۔ ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی تعلیمی معاشی سماجی حالت کافی پسماندہ ہے ۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی سدھیر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس کا انکشاف کیا ۔ اقلیتوں کی ترقی و بہبود کیلئے مسلم تحفظات کو 4 فیصد سے توسیع دے کر 12 فیصد کرنے اور معیار تعلیم کو بلند کرنے کیلئے کئی مشورے و تجاویز پیش کی تھی ایسا لگتا ہے اس رپورٹ کو بھی برفدان کی نذر کر دیا گیا ہے ۔ میناریٹیز ریسیڈنشیل اسکولس و کالجس کے نتائج سرکاری اسکولس کے نتائج سے بہتر ہے ۔ اس کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب اساتذہ کی قلت کو دور کیا جائے اور جنگی خطوط پر تمام تدریسی و غیر تدریسی جائیدادوں پر تقررات کئے جائے ۔ حکومت کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولس و کالجس کے طلبہ پر سالانہ فی طالب علم ایک لاکھ 25 ہزار روپئے خرچ کرنے کا دعوی کیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اقامتی اسکولس وکالجس میں 50 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ ان طلبہ کی تعلیم پر توجہ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ تاہمہ اساتذہ کی قلت کا طلبہ پر بہتر زیادہ اثر پڑ رہا ہے ۔ اقلیتی اقامتی اسکولس کے بہ نسبت ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی ریسیڈنشیل اسکولس و کالجس میں زیر تعلیم طلبہ کا مسابقتی امتحانات میں شاندار مظاہرہ رہا ہے ۔ جبکہ بی سی ریسیڈنشیل اسکولس میں 3870 ایس سی ریسیڈنشیل اسکولس میں 2267 اور ایس ٹی ریسیڈنشیل اسکولس میں 1514 ٹیچرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ باوجود ان اسکولس و کالجس کے طلبہ کا نیٹ و دیگر مسابقتی امتحانات میں شاندار مظاہرہ ہے ۔ اس کا اقلیتی اقامتی اسکولس کے انتظامیہ کو سنجیدگی سے جائزہ ینا چاہئے جو نقائص اور کمزوریاں ہیں ۔ اس کو دور کرنے اقلیتی طلبہ کے مستقبل کو سنوارنے مسابقتی امتحانات کے مناسبت سے نصاب تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کیلئے ماہرین تعلیم کی خدمات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی گروکل اسکولس و کالجس میں طلبہ کو پڑھانے کیلئے کونسا نصاب تیار کیا گیا ہے اور وہ کس سے مدد حاصل کر رہے ہیں ۔ ان تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کے ساتھ ایک سے زائد اجلاس طلب کریں ۔ تب ہی جاکر اقلیتی طلبہ کے مسابستی امتحانات میں بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ ن ط