اقلیتی بہبود کے حکام وزراء کو بھی گمراہ کرنے میں مصروف

   

مکہ مسجد و شاہی مسجد ملازمین پر کئی ماہ تک محکمہ فینانس کے مکتوب کا جواب نہیں دیا گیا

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔28 جون۔محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی جانب سے وزراء اور عوامی نمائندوں کو گمراہ کیا جا رہاہے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت مساجد مکہ مسجد و شاہی مسجد باغ عامہ کے ملازمین کی خدمات کو جزوقتی کردینے کے معاملہ میں دعویٰ کیا جا رہاہے کہ محکمہ نے ان ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے محکمہ فینانس کے مکتوب کا جواب دیتے ہوئے رہنمایانہ خطوط روانہ کردیئے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ محکمہ فینانس کے مکتوب کا کئی ماہ تک محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جواب نہ دینے اور سروس رولز تیار نہ کرنے سے محکمہ فینانس نے دونوں مساجد کے عملہ کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی بجائے ان کی خدمات کو جزوقتی (آؤٹ سورسنگ) قرار دیتے ہوئے احکام جاری کئے ہیں اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار خاموش تماشائی بنے رہے ۔ 14 جون کو سیاست نے محکمہ فینانس کے جی او ایم ایس 1042 کے متعلق انکشاف کیا تو اس کے بعد محکمہ میں ہلچل پیدا ہوگئی اور فوری محکمہ فینانس کو جواب روانہ کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن جی او کی اجرائی تک محکمہ اقلیتی بہبود نے خاموشی اختیار کررکھی تھی اور ہوش میں آنے تک کافی تاخیر ہوگئی۔22جون کو روزنامہ سیاست نے ملازمین کے تنخواہیں حاصل نہ کرنے کے فیصلہ کا انکشاف کیا ۔ اس کے بعد مکہ مسجد و شاہی مسجد ملازمین کے مسئلہ پر سیاسی سرگرمیاں شروع ہوگئی۔ وزیر داخلہ جناب محمود علی نے اس پر دو مرتبہ جائزہ اجلاس منعقد کیا لیکن ا سکے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ ایک مرتبہ پھر سے تیقن دیا گیا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے وعدہ کو قابل عمل بنانے اقدامات کئے جائیں گے۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی نے بھی اس پر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرکے دونوں مساجد کے ملازمین کی خدمات کوفوری باقاعدہ بنانے دوسری مرتبہ متوجہ کروایا ۔ تلنگانہ میں منادرکے عملہ کو سرکاری عملہ کے مماثل قرار دیتے ہوئے تنخواہ جاری کی جار ہی ہے اور شہر کی دو بڑی مساجد میں برسر خدمت جملہ30ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی بجائے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی سفارش پرمحکمہ فینانس نے محکمہ قانون سے رائے لے کر سپریم کورٹ کے کسی مقدمہ کا حوالہ دے کر مسترد کردیا ۔ محکمہ فینانس کے مطابق ان ملازمین کو باقاعدہ اور مستقل کرنے اقدامات وقت پر کئے جاتے تو اس صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ملازمین نے پھر سے واضح کردیا کہ وہ کسی تیسری ایجنسی سے تنخواہ لینے کے حق میں نہیں ہیں اور جب تک محکمہ اقلیتی بہبود راست تنخواہ جاری نہیں کرتا وہ تنخواہ منہاء نہیں کریں گے لیکن کام کاج میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔