لندن: برطانیہ کی الزائمر ریسرچ کی حالیہ تحقیق کو دماغی مرض الزائمر کی مؤثر دوا بنانے کی سمت میں اب تک کی سب سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دماغ کی اس لاعلاج بیماری سے لوگوں کو بچانے کیلئے اب تک کی گئی تحقیقات کی ناکامی کے درمیان اس تحقیق سے امید کی کرن دکھائی دی ہے ۔اب تک اس مرض میں دی جانے والی دوا ’’لیکانیماب‘‘ کا مریضوں کی ذہنی صحت پر بہت کم اثر ہوتا تھا یا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ صرف بیماری کے ابتدائی مراحل میں یہ دوا مریضوں کیلئے کسی حد تک فائدہ مند ہوتی ہے ۔تازہ ترین تحقیق کے بعد سامنے آنے والی دوا الزائمر کے مرض میں مبتلا مریضوں کے دماغ میں پیدا ہونے والی بیٹا ایمیلائیڈ پر حملہ کرتی ہے ۔ اب تک طبی میدان میں کافی مایوسی رہی ہے اور اس نئی امید کی کرن سے کو ایک اہم مرحلہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس تحقیق میں شامل پروفیسر جان ہارڈی کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے نمٹنے کیلئے اس میں پیدا ہونے والی امائلائیڈ کو نشانہ بنانے کا خیال 30 سال قبل عالمی شہرت یافتہ محققین کی طرف سے آیا تھا۔ یہ تاریخی اور بہت مثبت تحقیق ہے جسے الزائمر کیخلاف جنگ کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔