اللہ سے ڈر کانہیں محبت کا رشتہ ہونا چاہیئے

   


شادی تماشہ نہیں، حیدرآبادی شادیوں میں فضول خرچی غیر اسلامی
حضرت مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی کا حیدرآباد میں خواتین اور لڑکیوں کے لئے منعقد خصوصی جلسہ سے خطاب
حیدرآباد۔ 8 نومبر ۔ (پریس نوٹ) معروف اسکالر اور عالم دین حضرت مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے شہری قانون کے خلاف احتجاج کے دوران مسلم خواتین اور لڑکیوں کے حوصلہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بیروزگاری اور دوسرے حقیقی مسا ئل سے توجہ ہٹانے کے لئے حجاب،طلاق، مسجد اور مدرسہ کو مسئلہ بنا کر عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں پر لنچنگ اور دوسرے طریقوں سے ظلم کیا جا رہا ہے۔ مسلم معاشرہ کے خلاف سازشیں چلانے والے یہ نہیں چاہتے کہ مسلم عورتیں با پردہ اور شرم و حیا کے ساتھ اپنی زندگی گذاریں۔لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے انبیاء کے واقعات کی روشنی میں موجودہ حالات کو ایمان والوں کا امتحان قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ باطل کی شکست کا وقت قریب ہے۔انہوں نے مسلم خواتین سے کہا کہ وہ اپنے مذہب پر فخر کریں۔ اسلام کو اپنی پسند سے قبول کریں۔انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہا ر کیا کہ مسلم گھروں میں تربیت کا ماحول ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس پرانہوں نے خاص طور پرخواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو شاہنامہ اسلام جیسی کتابیں پڑھ کر سنائیں جس سے بچوں کی اخلاقی تربیت ہو۔ مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے کہا کہ چند غیر سرکاری تنظیمیں ایک منصوبہ بند سازش کے ذریعہ مسلمان بچیو ں کو عشق کے جال میں پھنسا کرانہیں مرتد بناتے ہوئے اغیار سے شادی کرنے پر مجبور کرنے کے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت ان سے ہوشیار ہو جائے اور ایسے منصوبوں سے اپنی بچیوں کو بچائیں۔مولانا نعمانی نے ازدواجی مسائل کے واقعات کی بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شادی کو حسن اور عشق کے چشمہ سے نہ دیکھیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھیں۔ والدین اپنے بچوں کو اس تعلق سے سمجھائیں۔اس موقع پر انہوں نے ملائشیا میں رائج مقبول عام تین ماہی کورس کا ذکر کیا جو شادی شدہ زندگی کی حقیقت کو سمجھانے کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں وہاں شادی شدہ جوڑوں میں نااتفاقیوں کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ اس موقع پرانہوں نے حیدرآباد کی مسلم شادیوں میں فضول خرچی کے رواج کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر اسلامی قرار دیا۔معروف اسکالر اور عالم دین حضرت مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے حیدرآباد میں خواتین اور لڑکیوں کے لئے منعقدہ خصوصی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہیں نصیحت کی کہ وہ اسلام اور اس کے تصور وحدانیت کو سمجھیں۔ صرف نماز اور برقعہ کا نام اسلام نہیں ہے۔ انہوں نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ اپنے ہم جماعت غیر مسلم لڑکیوں سے اخلاق سے پیش آئیں آج کل میڈیا کے ذریعہ اسلام غلط طریقہ سے پیش ہو رہا ہے لڑکیاں اپنے اخلاق سے اپنے ہم وطن بہنوں میں اپنا مذہب پیش کریں۔ اپنی خرا بی صحت کے باوجود مولانا سجاد نعمانی نے سماج میں پھیلی بے راہ روی اور ازدواجی رشتوں میں بڑے پیمانے پر اختلافات اور مسائل کے ضمن میں ملک بھر میں خواتین کے لئے منعقدہ خصوصی جلسوں سے خطاب کرنا کا سلسلہ شروع کیا ہے۔مولانا سجاد نعمانی نے اس ماہ جئے پور اور گلبرگہ میں خواتین اور لڑکیوں کے اجلاس سے خطاب کیا حیدرآباد میں بھی خواتین اور لڑکیوں کے لئے خصوصی طور پرمنعقدہ جلسہ کا انعقادتنظیم نسوان کل ہند مجلس تعمیر ملت نے کیا۔ یہ جلسہ میٹرو کلاسک گارڈن واقع آرام گھر چوراستہ، راجندرنگر میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس اجلاس کے لئے جلسہ گاہ میں صرف خواتین اور لڑکیوں کو ہی شرکت کی اجازت تھی۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور لڑکیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پرمرد حضرات کے لئے جلسہ گاہ کے باہر بیٹھنے اور جلسہ کی کاروائی کو ایل ای ڈی اسکرین پر مشاہدہ کا انتظام کیا گیاتھا۔مولانا سجاد نعمانی کے خطاب سے پہلے رکن مسلم پرسنل لا بورڈعقیلہ خاموشی نے بھی خطاب کیا۔ کل ہند مجلس تعمیر ملت کے صدر ضیا الدین نیر، جنرل سکریٹری جناب محمد عمر شفیق اور نائب صدر ڈاکٹر مشتاق علی اور دوسرے ذمہ داران وہاج الدین اور سیف الرحیم قریشی نے جلسہ کے انتظامات سنبھالے۔