سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت سے سوال ‘وزیر قانون کے طریقۂ کار پر بھی سوالیہ نشان
نئی دہلی: سپریم کورت نے جمعرات کو ارون گوئل کے الیکشن کمشنر کی حیثیت سے تقرری کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کر نے والے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی سے سوال کیا کہ یہ اتنی جلدبازی میں کیوں کی گئی؟ جسٹس کے ایم جوزف کی سربراہی والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے گوئل کی تقرری پر فائل کی جانچ کے بعد محکمہ عملہ اور تربیت (ڈی او پی ٹی) ڈیٹا بیس سے چار ناموں کو شارٹ لسٹ کرنے میں وزیر قانون کی جانب سے اختیار کئے گئے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو تقرری پر مِنی ٹرائل نہیں کرنا چاہیے، تاہم بنچ سے ان سے یہ بتانے کے لئے کہا کہ اتنی برق رفتاری سے تقرری کرنے کی وجہ کیا تھی۔ بنچ نے پوچھا، اسی دن عمل شروع ہوا، اسی دن کلیئرنس ہوئی اور اسی دن تقرری کر دی گئی؟ جسٹس جوزف نے خاص طور پر ڈی او پی ٹی کے ڈیٹا بیس سے چار ناموں کے انتخاب میں وزیر قانون کے اختیار کردہ معیار پر سوال اٹھایا۔بنچ نے کہا کہ 18 نومبر کو وزیر نے ناموں کا انتخاب کیا اور فائل بھی اسی دن پیش کی گئی، حتیٰ کہ وزیراعظم نے بھی اسی دن ناموں کی سفارش کی۔ ہم کوئی تصادم نہیں چاہتے۔ عدالت نے کہا کہ یہ عہدہ 15 مئی سے خالی تھا، اور اب اسے برق رفتاری کے ساتھ پر کر دیا گیا۔ جسٹس جوزف نے کہا کہ عدالت کو ‘یس مین’ (جی حضوری کرنے والا) کی تقرری پر تشویش ہے اور پوچھا کہ وزیر قانون کی عمر کے معیار کی بنیاد پر سینکڑوں لوگوں کے ڈیٹا سے چار ناموں کو شارٹ لسٹ کرنے کی کیا بنیاد ہے؟گوئل کی تقرری کے سوپر فاسٹ طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے بنچ نے کہا کہ یہ عمل 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل ہو گیا اور اس کے لئے نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ الیکشن کمشنروں اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کی تقرری کے لیے کالجیم جیسا نظام قائم کرنے کی درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے کل مرکز سے کہا تھاکہ وہ گوئل کی حالیہ تقرری سے متعلق فائلوں کو دیکھنا چاہتا ہے اور آج ان فائلوں کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمشنر ارون گوئل کی صلاحیتوں پر کوئی شک و شبہ کی بات نہیں ہے بلکہ تیز رفتاری سے تقرر پر سوال اٹھا یا جا رہا ہے ۔